کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 111
ترمذی نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے،لیکن اس کی سند میں ولید بن مسلم واقع ہیں اور یہ مدلس ہیں اور انھوں نے اس حدیث کو اوزاعی سے معنعناً روایت کیا ہے۔[1] تقریب میں ہے: ’’الولید بن مسلم القرشي مولاھم،أبو العباس الدمشقي؛ ثقۃ لکنہ کثیر التدلیس والتسویۃ،من الثامنۃ‘‘[2] [ابو العباس،ولید بن مسلم قرشی،دمشقی (ان کا آزاد کردہ غلام) ثقہ ہے،لیکن وہ بہت تدلیسِ تسویہ کرنے والا ہے۔آٹھویں طبقے سے ہے] مسند احمد وغیرہ میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: (( إِنِّيْ عَبْدُ اللّٰه وَ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ،وَإِنَّ آدَمُ لَمُنْجَدِلٌ فِيْ طِیْنَتِہِ )) [3] الحدیث [بلاشبہہ میں (تب سے) اﷲ کا بندہ اور خاتم النبیین ہوں،جب آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں گوندھے ہوئے تھے] اس حدیث کو ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔حافظ ابن حجر فتح الباری (۱۴/ ۳۱۴) میں اس حدیث کو ذکر کر کے لکھتے ہیں: ’’أخرجہ البخاري في التاریخ،وأخرجہ أیضاً أحمد،وصححہ ابن حبان والحاکم‘‘[4] انتھیٰ [امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے تاریخ میں بیان کیا،نیز اس کو امام احمد رحمہ اللہ نے بیان کیا اور ابن حبان و حاکم نے اسے صحیح کہا] فتح الباری میں یہ حدیث اسی لفظ سے منقول ہے اور مشکاۃ شریف میں یہ حدیث بحوالہ شرح السنہ بایں لفظ منقول ہے: (( إِنِّيْ عَبْدُ اللّٰه مَکْتُوْبٌ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَإِنَّ آدَمُ لَمُنْجَدِلٌ فِيْ طِیْنَتِہِ )) [5] الحدیث [میں اﷲ کا بندہ اور خاتم النبیین لکھا گیا تھا جب آدم علیہ السلام اپنی مٹی میں گوندھے ہوئے تھے] جامع ترمذی کی حدیث مذکور کا ترجمہ و مطلب شیخ عبدالحق محدث دہلوی ’’أشعۃ اللمعات‘‘ میں اس طرح لکھتے ہیں: ’’(عن أبي ھریرۃ قال:قالوا:) گفت ابو ہریرہ:گفتند صحابہ:(یا رسول اللّٰه! متی وجبت لک النبوۃ)کہ ثابت شد مراترا نبوت و در کدام وقت بداں نامزدگشتی (قال:وآدم بین الروح والجسد) [1] دیگر صحیح اسانید سے بھی یہ روایت مروی ہے۔دیکھیں:مسند أحمد (۲۷/ ۱۷۶) [2] تقریب التھذیب (ص:۵۸۴) [3] مسند أحمد (۴/ ۱۲۷) صحیح ابن حبان (۱۴/ ۳۱۲) المستدرک (۲/ ۴۵۳) [4] فتح الباري (۶/ ۵۵۹) [5] مشکاۃ المصابیح (۳/ ۲۵۱) نیز دیکھیں:شرح السنۃ (۱۳/ ۲۰۷)