کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 110
الفوائد المجموعۃ للعلامۃ الشوکاني رحمہ اللّٰه۔ حافظ ابن حجر ’’تلخیص الحبیر‘‘ (ص:۲۷۵) میں لکھتے ہیں: ’’وأما الثاني (أي حدیث:اللّٰهم أحیني مسکینا۔۔۔) فرواہ الترمذي من حدیث أنس رضی اللّٰه عنہ واستغربہ،وإسنادہ ضعیف،وفي الباب عن أبي سعید،رواہ ابن ماجہ،و في إسنادہ ضعف أیضاً،ولہ طریق أخریٰ في المستدرک من حدیث عطاء عنہ،وطولہ البیہقي،و رواہ البیھقي من حدیث عبادۃ بن الصامت،وأسرف ابن الجوزي فذکر ھذا الحدیث في الموضوعات‘‘[1] انتھیٰ [اے اﷲ! مجھ کو مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ۔اس کو ترمذی نے انس سے روایت کیا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ابن ماجہ نے ابو سعید سے روایت کیا ہے اور اس کی سند بھی ضعیف ہے۔مستدرک حاکم میں اس کے اور بھی طرق ہیں۔بیہقی نے اس کو عبادہ بن صامت سے روایت کیا ہے اور ابن جوزی نے زیادتی کی جو اس کو موضوع لکھ دیا] واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین کیا یہ حدیث (( أَنَا کُنْتُ نَبِیٍّا وَ آدَمُ بَیْنَ الْمَائِ وَالطِّیْنِ )) صحیح ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ (( أنا کنت نبیا و آدم بین الماء والطین )) [3] کیسی ہے اور اس کا کیا مطلب ہے؟ مرسلہ:مولوی ابو محمد عبدالجبار صاحب،از کھنڈیلہ ضلع جے پور شیخا واٹی،پوسٹ سری مادھوپور مدرسہ اہلحدیث جواب:جامع ترمذی (۴/ ۲۹۲) میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’قال:قالوا:یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ! متی وجبت لک النبوۃ؟ قال:(( وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ )) ھذا حدیث حسن صحیح غریب من حدیث أبي ھریرۃ لا نعرفہ إلا من ھذا الوجہ‘‘[4] [اس نے بیان کیا کہ لوگوں سے دریافت کیا:یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے نبوت کب واجب ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب آدم علیہ السلام روح و جسم کے درمیان تھے۔‘‘ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حسن صحیح غریب ہے،ہم اس کو اسی واسطے سے جانتے ہیں ] [1] التلخیص الحبیر (۳/ ۱۰۹) [2] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۳۰۳) [3] یہ حدیث موضوع ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیں:تنزیہ الشریعۃ (۱/ ۳۴۰) تذکرۃ الموضوعات (ص:۸۶) الموضوعات للملا علي القاري (ص:۲۷۱) السلسلۃ الضعیفۃ،رقم الحدیث (۳۰۱) [4] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۳۶۰۹)