کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 108
اس پر انکار نہ کیا۔لوگوں نے امیر معاویہ سے پوچھا:دو ذبیح کون سے ہیں ؟ تو فرمایا:عبدالمطلب نے جب زمزم کا کنواں کھودنا چاہا تو نذر مانی کہ اگر یہ کنواں آسانی سے مجھے دستیاب ہوگیا تو میں اپنی اولاد میں سے ایک لڑکا خدا کے نام پر ذبح کروں گا۔چناں چہ انھوں نے اپنی اولاد پر قرعہ ڈالا تو حضرت عبداﷲ کا نام نکلا،لہٰذا ان کے بدلے سو اونٹ ذبح کیے گئے اور دوسرے ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے] دیکھو! یہ حدیث صاف اور صراحت طور پر بتاتی ہے کہ ذبیح اسماعیل علیہ السلام تھے،پس احادیث مذکورہ بالا جن سے اسحاق علیہ السلام کا ذبیح ہونا ثابت ہوتا ہے،بوجہ تعارض کے بھی ناقابلِ استدلال ہیں۔الحاصل تعیینِ ذبیح میں حدیثیں مختلف و متعارض آئی ہیں اور باوجود تخالف و تعارض کے کل کی کل ضعیف ہیں،اس تعارض و ضعف کی وجہ سے ان کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے،اسی وجہ سے ان کو کالعدم سمجھ کر ظاہر نظمِ قرآن سے جو بات ثابت ہوئی ہے،اس کو اختیار کیا گیا ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین کیا یہ احادیث صحیح ہیں اور ان کو قدسی کہنا درست ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین احادیثِ مذکورہ ذیل کے بارے میں کہ یہ صحیح ہیں یا ضعیف یا موضوع اور ان میں سے نمبر 1 و نمبر 4 کو حدیثِ قدسی کہنا کیسا ہے؟ وہ حدیثیں یہ ہیں: ’’لولاک لما خلقت الأفلاک‘‘ [اگر تو نہ ہوتا تو میں افلاک کو پیدا نہ کرتا] ’’من زار العلماء فکأنما زارني،ومن صافح العلماء فکأنما صافحني،ومن جالس العلماء فکأنما جالسني،ومن جالسني في الدنیا أجلس لہ یوم القیامۃ‘‘ [جس نے علما کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی،جس نے علما سے مصافحہ کیا گویا اس نے مجھ سے مصافحہ کیا،جس نے علما سے مجلس کی گویا اس نے مجھ سے مجلس کی اور جس نے دنیا میں مجھ سے مجلس کی تو میں قیامت کے دن اس کے ساتھ بیٹھوں گا] ’’علماء أمتي کأنبیاء بني إسرائیل‘‘ [میری امت کے علما بنی اسرائیل کے انبیا کی طرح ہیں ] ’’إنہ کان صلی اللّٰه علیہ وسلم یقول:اللّٰهم أحیني مسکیناً وأمتني مسکیناً،واحشرني في زمرۃ المساکین‘‘ [بلاشبہہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:’’اے اﷲ! مجھ کو مسکین زندہ رکھ اور مجھے مسکین ہی فوت کر اور مجھ کو مساکین کے زمرے میں اکٹھا کر] [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۴۶۳)