کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 105
دے کر اس کو ذبح کرا دیا جائے،بلکہ حکمت اور مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ لونڈی کے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا جائے،تاکہ سارہ کے دل میں اس کے بیٹے کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو اور اس کے لیے اس لونڈی اور اس کے بیٹے کی برکت رونما ہو اور پھر ہاجرہ اور ان کے بچے نے اس راہ میں جو تکلیفیں برداشت کیں،وطن سے دور ہوئے،غربت،تنہائی اور مسافری کی صعوبتیں برداشت کیں تو ان کو یہ انعام ملا کہ خدا تعالیٰ نے ان کے قدموں کے نشانات محفوظ رکھے اور ان کو حج کے ارکان بنا دیا۔اﷲ تعالیٰ کسی کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:{وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ۔۔۔۔الْوٰرِثِیْنَ}] اگر کوئی کہے:ظاہر نظمِ قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسماعیل علیہ السلام ذبیح تھے،مگر قرآن میں اس کی صاف تصریح نہیں آئی ہے کہ ذبیح کون تھے تو حدیثوں میں تو صاف تصریح آگئی ہے کہ ذبیح اسحاق علیہ السلام تھے،پس ان احادیث کے مطابق اسحاق علیہ السلام کو کیوں ذبیح نہیں کہا جاتا اور صاف اور مصرح امر کو چھوڑ کر غیر مصرح کو کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟ اور وہ حدیثیں یہ ہیں: 1-تفسیر در منثور میں ہے: ’’أخرج الدارقطني في الأفراد والدیلمي عن ابن مسعود رضی اللّٰه عنہما قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:الذبیح إسحاق‘‘[1] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ذبیح اسحاق ہے] 2-تفسیر در منثور میں ہے: ’’وأخرج الطبراني وابن مردویہ عن ابن مسعود رضی اللّٰه عنہما قال:سئل النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم من أکرم الناس؟ قال:یوسف بن یعقوب بن إسحاق ذبیح اللّٰه ‘[2] [نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے معزز آدمی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یوسف بن یعقوب بن اسحاق ذبیح اﷲ] 3-تفسیر درمنثور میں ہے: ’’أخرج ابن أبي حاتم عن أبي روق رضی اللّٰه عنہ قال:لما حبس یوسف علیہ السلام أخاہ بسبب السرقۃ،کتبہ إلیہ یعقوب علیہ السلام:من یعقوب بن إسحاق بن إبراھیم خلیل اللّٰه إلیٰ یوسف عزیز فرعون۔أما بعد:فإنا أھل بیت موکل بنا البلاء،إن أبي إبراھیم علیہ السلام ألقي في النار في اللّٰه،فصبر فجعلھا اللّٰه علیہ بردا وسلاما،وإن أبي إسحاق قرب للذبح في اللّٰه فصبر ففداہ اللّٰه بذبح عظیم،وإن اللّٰه کان وھب لي قرۃ عین فسلبنیہ فأذھب حزنہ بصري،وأیبس لحمي علیٰ عظمي فلا لیلي [1] الدر المنثور (۷/ ۱۰۷) فتح القدیر للشوکاني (۴/ ۵۷۲) ضعیف الجامع،رقم الحدیث (۳۰۵۹) [2] الدر المنثور (۷/ ۱۰۸) المعجم الکبیر (۱۰/ ۱۴۸) امام ہیثمی فرماتے ہیں:’’بقیۃ مدلس،وأبو عبیدۃ لم یسمع من أبیہ‘‘ (مجمع الزوائد:۸/ ۲۰۵)