کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 100
حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام میں سے ذبیح کون تھے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ذبیح کون تھے:اسماعیل علیہ السلام یا اسحاق علیہ السلام ؟ یعنی ذبح کرنے کا حکم کس کی نسبت آیا تھا:آیا اسماعیل علیہ السلام کی نسبت یا اسحاق علیہ السلام کی نسبت؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسماعیل علیہ السلام ذبیح تھے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسحاق علیہ السلام تھے۔پس اس بارے میں قولِ فیصل کیا ہے؟ جواب:اس بارے میں علما کا اختلاف چلا آتا ہے۔بعض اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح بتاتے ہیں اور بعض اسحاق علیہ السلام کو،مگر نظمِ قرآن سے جو بات ثابت ہوتی ہے،وہ یہی ہے کہ اسماعیل علیہ السلام ذبیح تھے اور اس بارے میں میرے نزدیک یہی قول اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔واﷲ أعلم بالصواب۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ زاد المعاد میں لکھتے ہیں: ’’إسماعیل ھو الذبیح علیٰ قول الصواب عند علماء الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم،وأما القول بأنہ إسحاق فباطل بأکثر من عشرین وجھا،وسمعت شیخ الإسلام ابن تیمیۃ۔قدس اللّٰه روحہ۔یقول:ھذا القول إنما ھو متلقی من أھل الکتاب مع أنہ باطل بنص کتابھم،فإن فیہ:إن اللّٰه أمر إبراھیم علیہ السلام أن یذبح ابنہ بکرہ،وفي لفظ:وحیدہ،ولا یشک أھل الکتاب مع المسلمین أن إسماعیل ھو بکر أولادہ‘‘[1] یعنی علماے صحابہ و تابعین و تبع تابعین ومن بعدہم کے نزدیک قولِ صواب یہی ہے کہ اسماعیل علیہ السلام ذبیح ہیں اور اسحاق علیہ السلام کا ذبیح ہونا باطل ہے،اس کے بطلان میں بیس سے بھی زیادہ وجہیں ہیں۔میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ (قدس اﷲ روحہ) سے سنا ہے،وہ فرماتے تھے کہ یہ قول،یعنی اسحاق علیہ السلام کا ذبیح ہونا،اہلِ کتاب سے لیا گیا ہے،حالانکہ یہ قول خود انہی کی کتاب سے باطل ہے،کیونکہ ان کی کتاب میں یہ صاف لکھا ہوا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم کیا کہ اپنے پہلے بیٹے کو ذبح کر،اور ایک لفظ میں ہے کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کر اور اس بات میں نہ اہلِ کتاب کو شک ہے اور نہ اہلِ اسلام کو کہ ابراہیم علیہ السلام کے پہلے بیٹے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔ ’’والذي غر أصحاب ھذا القول أن في التوراۃ التي بأیدیھم:اذبح ابنک إسحاق۔قال:وھذہ الزیادۃ من تحریفھم وکذبھم،لأنھا تناقض قولہ:بکرک ووحیدک،ولکن یھود حسدت بني إسماعیل علیٰ ھذا الشرف،وأحبوا أن یکون لھم وأن یسوقوہ إلیھم ویختارونہ دون العرب،ویأبیٰ اللّٰه إلا أن یجعل فضلہ لأھلہ‘‘[2] اس قول کے قائلین کو اس بات سے دھوکا ہوا ہے کہ ان کے پاس تورات کا جو نسخہ تھا اس میں یہ عبارت تھی: [1] زاد المعاد (۱/ ۷۰) [2] زاد المعاد (۱/ ۷۰)