کتاب: شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے - صفحہ 78
لگااے اللہ کے رسول ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے آپ نے فرمایا اقتلوہ [1] اس کو قتل کردو۔ اسی طرح مالک نے ابن شہاب سے روایت کیاہے اور مالک کے علاوہ دوسروں نے روایت کیاکہ جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر سیاہ پگڑی تھی۔[2] اوربخاری ومسلم نے ذکر کیا کہ اس وقت آپ اپنی سواری پرتھے اورآپ کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سوار تھے۔ ابوعبید کی کتاب الاموال میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں فرمایا کسی زخمی کوقتل نہ کیاجائے بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیاجائے قیدی کو قتل نہ کیاجائے اور جوشخص اپنا دروازہ بند کردے اسے امن ہوگا۔[3] کتاب النسائی وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ من دخل الکعبة فھو امن ومن اغلق بیته فھو امن ومن القی السلاح فھو امن ومن دخل دارابی سفیان فھوامن۔ جوکعبہ میں داخل ہوجائے،ا پنے گھرکا دروازہ بند کردے،ہتھیار ڈال دے یا ابوسفیان کے گھر میں چلاجائے تو ان تمام کے لیے امن ہوگا۔ فتح کے سال باقی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور عورتوں کے علاوہ سب کو امن دے دیا۔[4] ابن حبیب نے کہا چھ مردوں اور عورتوں کو امن نہیں دیا۔ان کے متعلق آپ نے ارشاد فرمایا: [1] البخاری (3044) ومالک فی المؤطا (1/423) ومسلم (1357) عن انس رضی اللّٰه عنہ. [2] مسلم (1358) ابوداؤد (4076) والترمذی (1735) وابن حبان (3720) عن جابر رضی اللّٰه عنہ. [3] البزار(1849) مجمع الزوائد (6/243) فیه کوثر بن حکیم ضعیف متروک. [4] مسلم (1780) وابوداؤد (3024) عن ابی ھریرة.