کتاب: شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے - صفحہ 47
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی حد میں جدید ( کھجور کی وہ ٹہنی جس کے پتے صاف کردیے گئے ہوں ) اور جوتے مارے اور ابوبکر نے چالیس درے مارے۔[1] سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور میں ہمارے پاس شراب پینے والا لایاجاتاہے،توہم کھڑے ہوجاتےاوراس کو اپنے ہاتھوں جوتوں اور چادروں سے مارتے،جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری دورآیا توانہوں نے اس کو چالیس کوڑے مارے،پھر جب وہ مزید سرکش ہوئے اور گناہ کرنے لگے توانہوں نے اسی درے لگائے [2] کتاب الحدود میں اسی طرح ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا توانہوں نے ولید بن عقبہ کواسی درے لگائے۔ ایک اور جگہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جب ولید بن عقبہ حمران اور ایک دوسرے آدمی نےشہادت دی توحمران نے کہا اس نے شراب پی اور دوسرے نے کہا میں نے اس کوقے کرتے ہوئے دیکھا ہے توسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا اس نے پی تھی تواسی لیے ہی قے کررہاتھا۔پھر فرمایا علی اٹھو اورا س کوکوڑے لگاؤ توسیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا حسن تم اٹھو اور اس کوکوڑے لگاؤتوانہوں نے کہا (وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا) یعنی جو شخص ٹھنڈے امور کا ذمہ دار ہے اسی کے ذمہ گرم اموربھی کرو،گویا کہ وہ ناراض ہوئے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کوکہا کہ اٹھو اورا س کوکوڑے مارو،وہ اٹھے اور کوڑے لگانے لگے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گننے لگے اور جب وہ چالیس پر پہنچے تو کہا کہ رک جاؤ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس درے لگائے ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسّی درےلگائے اور یہ سب سنت ہے مگرمجھے (چالیس) پسندہیں ۔[3] امام شافعی نے چالیس والی بات اپنائی۔ [1] البخاری 6773۔ [2] البخاری 6779 عن السائب بن یزید رضی اللّٰه عنہ . [3] احمد فی المسند 624/1184۔ومسلم 1707۔38۔ابوداود 4481،وابن ماجه 2571.