کتاب: شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے - صفحہ 266
ۚ تَحْبِسُونَهُمَا مِن بَعْدِ الصَّلَاةِالایه ( المائدہ 106) اگرتم زمین میں سفر کرو اور تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے توان گواہوں کو نمازکے بعد روک لو۔ چنانچہ ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ سلم کے ممبر کے پاس عصر کے بعد قسمیں اٹھائیں اور ان کوچھوڑدیاگیا،پھر پتہ چلا کہ تمیم کے پاس ایک چاندی کا برتن لکیر دار سونے کا پانی چڑھاہواموجود ہے۔دلائل میں ہے کہ وہ برتن مکہ میں ملاتھا اور اس کے غیر نے کہا کہ وہ برتن ایک ہزار درہم کا بیچا گیا تو پانچ سوتمیم نے اور پانچ سو عدی بن براء نے لے لیے،میت کے ورثاء نے کہا یہ برتن ہمارےساتھی کا ہے جواس کے پاس تھے اور تم کہتے ہو کہ اس نے بیچا بھی کچھ نہیں اور نہ ہی خریدا ؟ تو ان دونوں نے کہا یہ برتن ہم نے اس سے خریدا تھا پھر ہم بھول گئے اور تمہیں بتانہ سکے،یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی گئی تویہ آیت نازل ہوگئی۔  ﴿فَإِنْ عُثِرَ عَلَىٰ أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا فَآخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِن شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ (المائدہ 107) اگرمعلوم ہوجائے کہ انہوں نے گناہ سے حق ثابت کیا تودوسرے دوآدمی ان کی جگہ کھڑے ہوجائیں ان لوگوں میں سے جس پر پہلے گواہوں نے حق ثابت کردیاتھا اور وہ قسمیں اٹھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہتر ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی ورنہ ہم ظالموں میں سے ہوجائیں ۔ تومیت کے اولیاء سے دوآدمی اٹھے ایک عبداللہ بن عمروا ور دوسرے مطلب بن ابی دواعہ،توانہوں نے قسم اٹھائی کہ جو کچھ اس کی وصیت میں تھا وہ حق ہے اور تمیم اور اس کے ساتھی نے اس کی وصیت میں خیانت کی ہے جب ان کی خیانت پر اللہ تعالیٰ نے مطلع فرمایا۔[1] [1] رواہ بنحوہ الترمذی 3059 وقال ھذا حدیث غریب ولیس اسنادہ بصحیح عن ابن عباس.