کتاب: شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے - صفحہ 264
پھرفرمایا:" لَيْسَ لَهُمَا شَيْءٌ "[1] ان کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھاگیا توآپ کچھ دیر چلتے رہے پھرفرمایا " حَدَّثَنِي جِبْرِيلُ أَنَّهُ لَا مِيرَاثَ لَهُمَا " کہ مجھے جبریل علیہ السلام نے حدیث بیان کی ہے کہ انہیں کچھ نہیں ملے گا۔ قاتل سے وراثت کو روکنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور جس نے اس کی تفسیر کی ہے کہ یہ حکم قتل عمد کےمتعلق ہے ابومحمد بن ابی زید نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل سے وراثت کوروک دیابوجہ اس کے جواس نے قتل کا کام کیا،تواسی طرح طلاق دینے کی وجہ سے اس کی بیوی سے وراثت بند ہوجائے گی جبکہ عدت سے کچھ مدت باقی ہو۔ اس کے علاوہ دیگر لوگوں نے کہا کہ عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت کیاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "لیس لقاتل فی المیراث شیء "[2] قاتل کو وراثت سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ امام مالک نے کہا اگر غلطی سے قتل کردیا تومالک کاوارث ہوگامگر دیت سے وارث نہیں ہوگااور اگر جان بوجھ کر عمداً قتل کردیا تونہ مال کاوارث ہوگیااور نہ دیت کا اور علماء نے اجماع کیاہے کہ عمدا قتل کرنے والا مقتول اوردیت کاوارث نہ ہوگا اورقتل خطا میں اختلاف ہے جس طرح کہ بیان ہوچکا۔ [1] رواہ الحاکم فی المستدرک 4/344 عن عبداللّٰه بن عمر رضی اللّٰه عنه فی اسنادہ عبداللّٰه بن جعفر المدنی ضعیف وله شواھد. [2] الدارقطنی (4/96 و237) والبیھقی 22/6 عن عمروبن شعیب عن ابیه عن جدہ وھوحدیث حسن.