کتاب: شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے - صفحہ 241
شجرھا۔وفی حدیث اخر،ولا یعضد عضاھھا وفی اخر،لایختلی شوکھا ولا تحل لقطتھا۔و فی اخر لاتحل ساقطتھا الالمنشد وفی اخر الالمعرف ومن قتل له قتیل فھو بخیر النظرین اما ان یفدی واما ان یقید " اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھیوں کوروکا،بخاری میں اصیلی کی روایت اسی طرح ہے اورقابس کی روایت میں ہے قتل کو روکا۔اور اس پر اپنے رسول اور مومنوں کومسلط کردیا اور میرے بعد کسی کےلیے بھی حلال نہیں اور میرے لیے دن کی صرف ایک گھڑی میں حلال کیاگیا نہ اس کاشکار متنفر کیاجائے اور نہ اس کا درخت کاٹاجائے۔ایک دوسری حدیث میں ہے۔اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں ۔ایک اور حدیث میں ہے اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں اور نہ ہی اس میں گری ہوئی چیز حلال ہے۔ایک روایت میں ہے۔اس میں گری ہوئی چیز صرف شناخت کروانے والااٹھاسکتا ہے۔ا یک اور حدیث میں ہے۔صرف تعارف کروانے کے لیےاٹھانادرست ہے۔اورجوشخص کہ اس کا کوئی مقتول ماراجائے تو وہ دوبہتر چیزیں دیکھے چاہے توفدیہ لے لے اورچاہے توقصاص لے لے،توسیدنا عباس رضی اللہ عنہ بولے اے اللہ کے رسول صرف اذخر کی اجازت دیجیے کیونکہ یہ ہماری قبروں کےلیے ہے اور ہمارے سناروں کے لیے ہیں ۔[1] سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ وہ ہماری قبروں اور گھروں کےلیے ہے توآپ نے فرمایا " إِلَّا الْإِذْخِرَ "ٹھیک ہے اذخر گھاس کاٹنے کی اجازت ہے۔تویمن کا ایک شخص ابوشاہ اٹھااورکہنے لگا اے اللہ کے رسول مجھے یہ لکھ دیجیے راوی کہتے ہیں تواس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہوا خطبہ لکھ دیاگیا۔[2] [1] البخاری 112و 2434 ومسلم 1355 وابوداود 3017 عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰه عنه. [2] البخاری 2434 ومسلم 1355 والترمذی رقم 1405.