کتاب: شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے - صفحہ 180
اپنایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: "أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ" جوآدمی مرجائے یامفلس ہوجائے تو اس کے سامان کامالک جب بعینہ اپنا سامان پالے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ احمد بن خالد نے اپنی مسند میں کہا ہے کہ ابن ابی ذئب کی حدیث زہری کی حدیث کے معاوض نہیں ہے۔نسائی نے کہا ابن ابی ذئب ضعیف ہے۔ دلائل اصیلی میں عکرمہ بن خالد سے روایت ہے کہ سیدنا اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ نے اسے حدیث بیان کی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان لکھا کہ جب کس کی چوری ہوجائے،ا ور اگر وہ مال اصلی شکل میں مل جائے تواس کا مالک اس کازیادہ حق دار ہے۔جب یہ بات مروان کولکھی گئی تو میں اس وقت یمامہ کاحاکم تھا،میں نے مروان کولکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے۔ "اذا وجدت السرقة عند رجل وھوغیر متھم فان شآء سیدھا اخذھا بالثمن واتبع سارقه " جب مال مسروقہ ایسے شخص کے پاس مل جائے جس کو چوری کی تہمت نہیں لگائی جاسکتی ہوتو اس کا مالک اگر چاہے تو وہ چیز قیمتاً لے سکتاہے اور چوری کرنے والے کاپیچھا کیاجائے۔ پھر آپ کے بعد سیدنا ابوبکر،سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم نے اسی طرح فیصلہ کیا تومروان نے یہ خط سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کولکھا کہ تم اور ابن حفیر مجھ پراپنا فیصلہ میری ولایت میں نہیں کرسکتے بلکہ میں تجھ پر فیصلہ کرتاہوں ،ا س لیے جس طرح میں نے حکم دیا اسی طرح فیصلہ کرو اور جب بات میں تکرار آگیا اور بات زیادہ بڑھ گئی تومروان نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خط مجھے پہنچادیا،میں نے کہا کہ میں توجب حاکم ہوں ،میں اس طرح کافیصلہ نہیں کروں گا۔[1] [1] ذکرہ الھندی فی کنزل العمال (30371) وابونعیم عن اسید بن ظھیر( 30372) و قال رواہ الطبرانی عن اسید .