کتاب: شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے - صفحہ 145
راوی نے کہا پھر وہ اس صلح پر راضی ہوگئیں اور ان کے پاس رہنے لگیں ۔[1] یہ الفاظ المدونہ کے ہیں ،مگر مؤطا میں یہ الفاظ نہیں کہ اس کے متعلق قرآن نازل ہوا اورا س کو نحاس نے بھی ذکر کیا۔ دودھ پینے کے بارے میں ایک عورت کی گواہی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ بخاری میں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا آپ کو ابوسفیان کی لڑکی کی کوئی خواہش ہے ؟ آپ نے فرمایا: " فَاعِلٌ مَاذَا" میں کیاکروں ؟ میں نے کہا آپ ا س سے نکاح کرلیں ۔ آپ نے فرمایا:" أَتُحِبِّينَ "کیاتویہ بات پسند کرتی ہے ؟ میں نے کہا میں آپ کے نکاح میں اکیلی ہی تو نہیں توآپ کی خبر کے معاملہ میں میرےساتھ جوشریک ہوا اس میں تومیری بہن مجھے زیادہ محبوب ہے،آپ نے فرمایا: "إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي "وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ میں نے کہا میں نے سنا ہے کہ آ پ ’’درہ‘‘ کومانگ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ابنت ام سلمة ؟ کیا ام سلمہ کی بیٹی درہ کے متعلق کہہ رہی ہو،میں نے کہا جی ہاں ،آپ نے فرمایا: "لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي؛ إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ،أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ،فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ"[2] اگر وہ پروردہ نہ بھی ہوتی توپھر بھی میرے لیے حلال نہیں کیونکہ مجھے اور ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے لہٰذا مجھ پر اپنی بہنیں اور بیٹیاں پیش نہ کیا کرو۔ [1] مالک فی المؤطا 1557 عن رافع بن خدیج وھو صحیح. [2] البخاری (1501) 5106) عن ام سلمة رضی اللّٰه عنها.