کتاب: شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے - صفحہ 141
ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتح کے سال مکہ آئے،آپ نے ہمیں عورتوں کے ساتھ متعہ کی اجازت دے دی تومیں اور میرا ایک ساتھی بنی عامر کی ایک عورت کے پاس گئے وہ طاقتور،قدآورنوجوان،لمبی گردن اور معتدل جسم والی تھی،ہم نے اس پر اپنی جان پیش کی اور اپنی اپنی چادریں اس پر پیش کیں ،میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے اچھی تھی لیکن میں ا س سے زیادہ نوجوان تھا،تو وہ مجھے بھی اور میرے ساتھی کو بھی دیکھنے لگی تومیرے ساتھی نے اسے کہا میری چادر اس کی چادر سے اچھی ہے،وہ کہنے لگی ہمیں یہ پسند ہے چاہے جیسی بھی اس کی چادر ہے چنانچہ میں ا س کے پاس تین دن تک رہا پھر تین دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " إِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهَا "[1] اللہ تعالیٰ نے اس کوحرام کردیاہے۔ اور مسند ابن ابی شیبہ میں ہے۔ " إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ،فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ،وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا "[2] اللہ تعالیٰ نے اس کو متعہ کو قیامت تک حرام کردیاہے تو جس کے پاس ان (عورتوں میں ) سے کوئی بھی( عورت ) ہوتو وہ اس کوچھوڑدے اور جوکچھ تم نے ان کو دیا وہ ان سے کچھ واپس نہ لو۔ شعبہ کی حدیث میں ہے جو سفیان پر ہی غریب ہے،انہوں نے کہا،پھر اس سے مقرر وقت دس دن تھا،انہوں نے کہا اس کے پاس رات گزاری جب میں نے صبح کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن اور دروازہ کے پاس کھڑے تھے،تو آپ کے کلام میں یہ بھی تھا کہ آپ نے فرمایا : " إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ،وَإِنَّ اللّٰه قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ،فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ [1] احمد فی المسند (405و404/2) ومسلم (24و1406) وابوداود (2073،2072) وابن حبان (4146). [2] ابن ابی شیبه 292/4 وعبدالرزاق فی المصنف (14041) اسنادہ صحیح .