کتاب: شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے - صفحہ 134
ابن حبیب کہتے ہیں خدمت باطنہ یہ ہے کہ مثلاً آٹا گوندھنا،روٹی پکانا،بستر ے وفرش وغیرہ کی جھاڑوپھونک اور جب پانی اس کے قریب ہوتو پانی لانا اور گھر کے سارے کام کرنا۔ بخاری،مسلم اور نسائی نے ذکر کیاہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ سلم کے پاس آئیں اور چکی پیسنے سے ان کے ہاتھوں پر جونشانات پڑگئے تھے ان کی شکایت کرنے لگیں ،کیونکہ انہیں معلوم ہوا تھا کہ آپ کے پاس کوئی غلام آئے ہیں اور جب وہ آئیں تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ مل سکے،توانہوں نے یہ بات ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا دی،پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتادیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور اس وقت ہم اپنے بستروں میں لیٹ چکے تھے،ہم اٹھنے لگے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی اپنی جگہ پررہو اور آپ آکر ہمارے درمیان میں بیٹھ گئے،یہاں تک کہ میں نے اپنے پیٹ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی ٹھنڈک محسوس کی،پھر فرمایا کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتادوں جوتمہارےلیے اس چیز سے بہتر ہے جوتم مانگ رہے ہو،جب تم اپنے بستروں میں جاؤ اور اپنے بچھونوں پر لیٹ جاؤ توتینتیس مرتبہ سبحان اللّٰه اور تینتیس مرتبہ الحمد للّٰه اور چونتیس مرتبہ اللّٰه اکبر پڑھو،یہ تمہارے لیےخادم سے بہتر ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے کبھی بھی یہ کلمات ترک نہیں کیے کسی نے پوچھا کہ صفین کی رات میں بھی،تو وہ کہنے لگے کہ ہاں صفین کی رات میں بھی میں نہیں بھولا۔[1] [1] احمد فی المسند (1/96) والبخاری (3113) و5367) ومسلم (2727) و ابوداود (562) عن علی رضی اللّٰه عنه.