کتاب: شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 95
’’إذا نعس أحدکم وھو یصلي فلیرقد حتی یذھب عنہ النوم فان احدکم اذا صلی وھو ناعس لعلہ یستغفر فیسب نفسہ۔‘‘ ’’جب کسی کو اونگھ آئے اور وہ نماز پڑھ رہا ہواس کو سو جانا چاہیے یہا ں تک کہ اس کی نیند ختم ہو جائے بے شک جب کوئی اونگھنے کی حالت میں نماز پڑھ رہا ہو وہ نہیں جانتا کہ بخشش طلب کر رہا ہے یا وہ اپنے آپ کو گالیاں دے رہا ہے۔‘‘(صحیح البخاری:۲۱۲) ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز میں اونگھ آئے تو وہ سو جائے یہاں تک کہ وہ جان لے وہ کیا پڑھ رہا ہے؟ (صحیح البخاری:۲۱۳) معلوم ہو اکہ اونگھ کی حالت میں نماز پڑھنی جائز نہیں لیکن اگر جماعت کے ساتھ ہے تو نماز میں جس کو اونگھ آجائے تو ساتھ والے نمازی کو چاہیے کہ وہ اس کو جگا دے۔ (صحیح مسلم:۷۲۳/۱۷۹۲) جمعہ کا خطبہ سنتے ہوئے اگر اونگھ آجائے تو: اس کو اپنی جگہ تبدیل کر لینی چاہیے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ إذا نعس أحدکم یوم الجمعۃ في مجلسہ فلیتحول من مجلسہ ذلک۔‘‘ جب تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے اونگھ آجائے تو اسے چاہئے کہ اپنی اس جگہ سے پھر جائے۔(یعنی وہاں سے اٹھ کر کسی دوسری جگہ بیٹھ جائے) (سنن أبي داؤد:۱۱۹، مسند أحمد: ۲/۲۲ اس کو امام ترمذی (۵۲۶) نے حسن صحیح اور ابن خزیمہ (۳/۱۶۰ح: ۱۸۱۹) نے صحیح کہا ہے۔) اونگھ ناقض وضو نہیں ہے: اونگھ کی تعریف: ’’غنودگی (نیند سے کم درجہ) ابتدائی نیند۔‘‘ (القاموس الوحید:ص۱۶۷۲)