کتاب: شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 92
۴۔ خاوند اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے لیکن بیوی آنے سے انکار کر دے اور اس کا اسی حالت میں سو جانا منع ہے کہ خاوند اس پر ناراض ہو ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) ۵۔ دس سال کی عمر کے بچوں کو اکٹھانہیں سونا چاہیے۔ جب بچے دس سال کی عمر کے ہو جائیں گے تو ان کو اکٹھا نہیں سونا چاہیے بلکہ ان کے بسترے الگ کر دینے چاہیے۔اس میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں،یعنی دو بہنیں جب دس سال کی ہو جائیں تو ان کے بستر الگ کر دیے جائیں ،اسی طرح جب دو بھائی دس سال کے ہو جائیں تو ان کے بستر بھی الگ کر دینے چاہیے خصوصا جب سونے والے بھائی اور بہن ہوں۔ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو نماز کی تلقین کرو اور جب دس سال کی عمر کو پہنچ جائیں اور نماز میں سستی کریں تواس پر انھیں مارو اور ان کے درمیان بسترے میں تفریق کر دو۔‘‘ (سنن أبي داؤد:۴۹۰) امام نووی نے کہا:’’إسنادہ حسن۔‘‘ (ریاض الصالحین:ح۳۰۱) ایک دوسر ی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’مرد مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں جمع نہ ہوں اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں جمع نہ ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم:۳۳۸) علامہ مناوی شرح جامع صغیر میں لکھتے ہیں کہ: ’’جب تمہاری اولاد دس برس کی عمر کو پہنچ جائے تو ان کے وہ بستر جہاں وہ سوتے ہیں ۔جدا جدا کر دو شہوت کی مصیبتوں سے ڈرتے ہوئے اگرچہ وہ دو بہنیں ہی ہوں۔‘‘ (کذا في عون المعبود:۲/۹۹ط:دار احیاء التراث)