کتاب: شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 82
۳۔ سورہ آلِ عمران کی دس آیتیں (ان فی خلق السموات سے لے کر واتقواللّٰه لعلکم تفلحون تک) آسمان کی طرف چہرہ کر کے پڑھنی چاہیے۔ (صحیح البخاری:۴۵۷۹،صحیح مسلم:۷۶۳) یہ آخری دونو ں دعاؤں کے وقت کی صراحت بھی ہے کہ ان کو تھجد کے وقت بیدار ہوتے ہوئے پڑھنا چاہیے ۔ ۴۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو (نیند سے بیدار ہوتے وقت )کافی دیر تک فرماتے: ’’سبحان اللّٰه رب العالمین‘‘ پھر فرماتے: ’’سبحان ربی وبحمدہ‘‘ (صحیح ابی عوانہ:۲/۳۰۳وسندہ صحیح ، سنن النسائی: ۳/۲۰۹ح:۱۶۱۹، وسنن ابن ماجہ:۳۸۷۹) نیند سے بیدار ہو کر کرنے والے کام: ۱۔ سو کر اٹھے تو مسواک کرے۔ (صحیح البخاری:۲۴۵، صحیح مسلم:۲۲۵) ۲۔ برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ کو تین بار دھوئے،کیونکہ پتا نہیں کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے(یعنی جسم کے کس حصے کو لگے ہیں۔)۔‘‘ (صحیح مسلم:۲۷۸) ۳۔ سو کر اٹھے تو ناک میں پانی ڈال کر اسے تین بار جھاڑنا چاہیے ،کیونکہ شیطان رات سونے والے کے نتھنوں میں گزارتا ہے۔ (صحیح مسلم:۲۳۸) ۴۔ سوئے ہوئے آدمی کو بیدار کر دے۔(تا کہ وہ بھی نماز پڑھ لے)(صحیح البخاری:۹۹۷) اس حدیث میں تو نماز وترکے لیے اٹھانے کا ذکر ہے ویسے ہر نماز کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ امر بالمعروف میں آتا ہے۔ ۵۔ اگر کوئی نماز سے سویا رہ گیاکسی نے اٹھایا ہی نہیں تو جب وہ بیدار ہو گا تو اس کی فوت شدہ نماز کا وہی وقت ہے۔اس وقت وہ نماز پڑھے گا۔ (صحیح مسلم:۶۸۴)