کتاب: شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 219
سیراب ہو جاتی ہے تو اس کی پیدا وار میں سے دسواں حصہ زکوٰۃ ہے اور جسے کنویں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جاتا ہے اس کی پیداوار میں سے بیسواں حصہ زکوٰۃ ہے۔ (صحیح بخاری: ۱۴۸۳) یاد رہے کہ وہ زمینیں جن کو ایسا پانی دیا جاتا ہے جو مشقت سے حاصل ہوتا ہے یا جس پر بل وغیرہ ادا کیا جاتا ہے اس میں سے بھی بیسواں حصہ ہے اورنہری پانی بھی اسی میں سے ہے کیونکہ گورنمنٹ کی طرف سے اس پر سالانہ ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ایسی فصل کی پیداوار پر بیسواں حصہ زکوٰۃ نکالی جائے گی۔ لیکن جو زمینیں سیراب ہوتی ہیں قدرتی ذرائع سے مثلاً چشمہ ، بارش وغیرہ یا جس پانی کے حاصل کرنے پر مشقت نہ ہو ئی ہو یا اس پر بل بھی لاگو نہ آتا ہو تو اس زمین کی پیداوار پر دسواں حصہ زکوٰۃ ہے۔یہ اکثریت پر محمول ہے یعنی اگر چشموں سے سیراب ہونے والی زمین کو کبھی کبھار ٹیوب ویل وغیرہ کا پانی بھی لگا دیا جائے تو اس میں دسواں حصہ ہی ہے۔ اسی طرح ٹیوب ویل کے ذریعے سے سیراب ہونے والی زمینیں کبھی کبھار چشموں وغیرہ سے سیراب ہو جائیں تو اس پر بیسواں حصہ ہی ہے ۔ تنبیہ: فصل کٹتے ہی اس کی زکوٰۃ ( عشر) نکالی جائے گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاٰتُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ ﴾ [ الانعام: ۱۴۱] ’’اور کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو۔ ‘‘ شہد میں دسواں حصہ زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو مُتعان کے ہلال ( رضی اللہ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شہد کا دسواں حصہ لے کر آئے۔ الخ ( سنن ابی داود: ۱۶۰۰، وسندہ حسن ) اگر جاہلیت کے زمانے کا زمین میں مدفون خزانہ ملے تو اس پر بھی بطور زکوٰۃ