کتاب: شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 215
اکانوے سے ایک سو بیس تک تین تین سال کی دو اونٹنیاں ہیں ۔ اگر تعداد ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائے تو ہر چالیس پر دو سال کی اونٹنی اور ہر پچاس پر تین سال کی اونٹنی لازم آئے گی۔ ( بخاری: ۱۴۵۳، ۱۴۵۴) گائے ( اور بھینس) کی زکوٰۃ: تیس گائیوں پر ایک سالہ مادہ گائے یا نر بچھڑا زکوٰۃ ہے۔چالیس گائیوں پر دو سال کا بیل یا گائے واجب ہے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ۳/۱۲۸ح ۹۹۳۳ عن الحکم بن عتیبہ وحماد بن ابی سلیمان من قولہما و سندہ صحیح) جانوروں کی زکوٰۃ کی دو شرطیں ہیں: ۱۔ نصاب کو پہنچنے کے بعد ان پر ایک سال گزر جائے۔ ۲۔ ان کی پرورش کا سارا سال یا سال کے اکثر حصے میں جنگلوں ، پہاڑوں یا سبز میدانوں میں چرانے پر ہوئی ہو اگر زیادہ انحصار چرانے پر ہو لیکن کبھی کبھار گھر پر بھی چارا ڈالا جائے تو زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بکریوں ( بھیڑوں اور دنبوں ) کی زکوٰۃ: چالیس بکریوں سے کم پر زکوٰۃ نہیں ہے [ اس پر اجماع بھی ہے۔ کما تقدم! ] چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری ہے۔ ایک سو اکیس سے دو سو تک دو بکریاں ہیں۔پھر ہر سو پر ایک بکری واجب ہوتی ہے۔(صحیح بخاری: ۱۴۵۴) درج ذیل صفات والے جانور بطور زکوٰہ وصول نہیں کئے جائیں گے: بوڑھا، بھینگا، نراِلا یہ کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا شخص ( نر لینا) مناسب سمجھے۔ (صحیح بخاری: ۱۵۵۴)