کتاب: شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 206
باقی پانی کے بعض احکام کی فہرست دم کر کے پانی پر پھونکنا: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے والی چیز میں پھونک مارنے سے منع کیا ، ایک آدمی نے کہا کہ اگر برتن میں تنکا دیکھوں تو؟ آپ نے فرمایا کہ اس کو بہا دے۔‘‘ (سنن الترمذی: ۱۸۸۷ ،وقال: ’’ حسن صحیح ‘‘ وسندہ صحیح، الموطأ ۲/ ۹۲۵ ح ۱۷۸۳ ) حائضہ عورت کا جھوٹا پانی پاک ہے اور پاک کرنے والا ہے۔ ( صحیح ابن خزیمہ: ۱۱۰) اگر کھیتی آسمانی پانی سے پکی ہے: اگر کھیتی آسمانی پانی سے پکی ہے تو اس میں عشر ہے اگر نہری یا ٹیوب ویل وغیرہ کے پانی سے سیراب ہوئی ہے تو اس میں نصف عشر ہے۔ سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ جو زمین آسمانی بارش اور چشموں سے سیراب ہوتی ہو یا رطوبت والی ہو اس میں دسواں حصہ زکوٰۃ ہے ( عشر ہے) اور جو زمین پانی کھینچ کر سیراب کی جاتی ہو اس میں بیسواں حصہ ( نصف عشر ) ہے ۔‘‘ ( صحیح البخاری: ۱۴۸۳) دار السلام کی مطبوعہ بلوغ المرام میں لکھا ہوا ہے کہ: