کتاب: شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 197
وہ مستعمل پانی جو پاک ہے اور پاک کرنے والا ہے وضوکے بعد برتن کا بچا ہوا پانی پینا: ’’سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئی اس نے کہا:یا رسول اللہ !میرا بھانجا بیماری کی وجہ سے بے چین ہے آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی پھر آپ نے وضو کیا میں نے آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا۔ ‘‘ ( صحیح البخاری: ۱۹۰) سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائے آپ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا آپ نے وضو کیا پھر لوگ آپ کے وضو کا باقی ماندہ پانی پینے لگے اور بدن پر ملنے لگے۔ ( صحیح البخاری: ۱۸۷) اس برتن کا پانی جس سے پہلے کوئی نہایا ہو: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے غسل کے بچے ہوئے پانی سے غسل کیا۔ ( صحیح مسلم: ۳۲۳) ازواج مطہرات میں سے کسی نے ٹپ ( کے پانی ) سے غسل کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بچے ہوئے پانی سے ) وضو کرنا چاہا تو انھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو جُنبی تھی؟ آپ نے فرمایا: پانی جنبی (ناپاک ) نہیں ہوتا۔ ( ابو داود: ۶۸، ابن ماجہ: ۳۷۰ امام ترمذی [۶۵] نے حسن اور ابن حبان ( ۱۲۶۵) نے صحیح کہا۔) میاں بیوی کا جنبی ہونے کی حالت میں اکٹھے ایک برتن سے پانی لے کر غسل کرنا صحیح ہے:( صحیح مسلم: ۳۲۱) تو جنابت کے علاوہ بالاولیٰ صحیح ہوا۔