کتاب: شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 182
اذان میں چہرے کے احکام: ۱۔ مؤذن قبلہ رخ ہو کر اذان کہے ۔ ( دیکھئے مرد کے چہرے کے احکام:۱) ۲۔ مؤذن حي علی الصلاۃ اور حي علی الفلاح کہتے وقت دائیں اور بائیں طرف چہرہ کو موڑے۔ (دیکھئے: صحیح بخاری:۶۳۴ وصحیح مسلم: ۲۴۹/۵۰۳) نماز میں چہرے کے احکام: قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنا فرض ہے۔ ( دیکھئے مرد کے چہرے کے احکام:۲) نماز پڑھتے وقت چہرے کے سامنے سترہ کا اہتمام کرنا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ’’أن رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم کان إذا خرج یوم العید أمر بالحربۃ فتوضع بین یدیہ فصلّی إلیھا۔۔‘‘ ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید کے لئے نکلتے آپ نیزہ کا حکم دیتے۔ نیزہ آپ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے سامنے قبلہ کی طرف گاڑا جاتا آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے۔ ‘‘ ( صحیح بخاری: ۴۹۴) نیز دیکھئے: صحیح بخاری( ۴۹۵) وصحیح ابن خزیمہ( ۸۴۰) تنبیہ: سترہ رکھنا واجب نہیں بلکہ سنت اور مستحب ہے۔[1] (دیکھئے: مسند البزار بحوالہ شرح صحیح بخاری لابن بطال ۲/ ۱۷۵ وسندہ حسن۔/ زع ) امام سلام پھیرتے وقت پہلے دائیں طرف چہرہ کر کے سلام کہے پھر بائیں طرف: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے (توکہتے ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ اور بائیں طرف سلام پھیرتے ( تو [1] ’’سترہ کے احکام‘‘ کے لیے دیکھیے:’’شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا‘‘ کی دوسری جلد.