کتاب: شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 179
اعضائے وضو کوتین مرتبہ دھونامسنون ہے: حمران مولیٰ عثمان نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا اس میں یہ بھی ہے کہ: ’’ ثم غسل وجھہ ثلاثًا ‘‘ پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے چہرے ( مبارک) کو تین مرتبہ دھویا۔ ( صحیح بخاری: ۱۵۹، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں) تین دفعہ سے زیادہ مرتبہ چہرے ( وضو کے اعضاء ) کو نہیں دھونا چاہئے: عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے لمبی روایت جس میں ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر وضو کے بارے میں سوال کرتا ہے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اسے وضو کے اعضاء کا تین تین بار دھونا سکھایا اور فرمایاکہ اس طرح ( کامل) وضوہے، پھر جو شخص اس (تین تین بار دھونے) پر زیادہ کرے پس تحقیق اس نے ( سنت کو چھوڑنے کی وجہ سے ) برا کیا اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مخالفت کر کے اپنے آپ پر) ظلم کیا۔ ( ابو داود: ۱۳۵،وسندہ حسن) سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ عنقریب اس امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو وضو میں زیادتی کریں گے اور دعا میں بھی۔‘‘ ( ابو داود: ۹۶ وسندہ صحیح) امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: وبین النبي صلي اللّٰه عليه وسلم أن فرض الوضوء مرۃ مرۃ، وتوضأ أیضًا مرتین ، وثلاثا ، ولم یزد علٰی ثلاث و کرہ أہل العلم الإسراف فیہ ، وأن یجاوزوا فعل النبي صلي اللّٰه عليه وسلم ۔ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دیا کہ وضو( کے اعضاء کو دھونا) ایک ایک بار فرض ہے اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اس(تین مرتبہ) پر زیادتی نہیں کی اور علماء