کتاب: شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 144
۲۔ مہندی کا خضا ب (رنگ)لگانا یا مہندی میں کوئی چیز ملا کر سفید بالوں کو رنگین کرنا بھی جائز ہے۔ ۳۔ زرد خضاب لگانا بھی ٹھیک ہے ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دباغت دیئے ہوئے اور بغیر بال کے چمڑے کاجوتا پہنتے تھے اور اپنی ریش (داڑھی)مبارک پرآپ ورس (ایک گھاس جو یمن کے علاقے میں ہوتی تھی ) اور زعفران کے ذریعے زرد رنگ لگاتے تھے ۔‘‘ (ابو داود: ۴۲۱۰وسندہ حسن،النسائی:۵۲۴۶) احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دفعہ سرخ اور زرد خضاب لگایا ہے اور بعض دفعہ نہیں بھی لگایا۔ نیز دیکھئے: فتح الباری(۱۰/۳۵۴) شیخ نور پوری حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ’’احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کو رنگنے کابھی ذکر ہے اور نہ رنگنے کابھی جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا رنگنے سے تعلق امرندب پر محمول ہے البتہ کل کے کل بال سفید ہوجائیں کوئی ایک بال بھی سیا ہ نہ رہے تو پھر رنگنے کی مزید تاکید ہے۔ ‘‘ (احکام ومسائل شیخ نور پوری۱/۵۳۱) ۴۔ سفید بالوں میں سیا ہ خضاب (رنگ) لگانادرج ذیل دلائل کی روشنی میں حرام ہے: ۱۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا،ان کے سر اور داڑھی کے بال بالکل سفید تھے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’غیروا ھذا بشيء ، واجتنبوا السواد ‘‘ اس کا رنگ بدلو اور کالے رنگ سے بچو۔ (صحیح مسلم:۲۱۰۲/۵۵۰۹) ۲۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ایسی قومیں آخر زمانہ میں آئیں گی جو کبوتر کے پپوٹوں کی طرح کالے رنگ کا خضاب کریں گی