کتاب: شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 107
جس کو یہ خدشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں ہی(یعنی نما ز عشاء کے بعد)وتر پڑھ لے اور جسے یہ توقع ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہو جائے گاتو اسے چاہیے کہ رات کے آخری حصے میں ہی وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ (مسلم:۷۵۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وتر سونے سے پہلے پڑھنے کی وصیت کی تھی۔ (بخاری:۱۹۸۱،مسلم۷۲۱) وہ اوقات جن میں نماز پڑھنی منع ہے: تین اوقات ایسے ہیں جن میں نماز پڑھنی منع ہے۔ ۱۔ جب سورج طلوع ہو رہا ہو حتی کہ وہ بلند ہو جائے۔ ۲۔ جب سورج نصف آسمان پر ہو حتی کہ وہ ڈھل جائے۔ ۳۔ جب سورج غروب ہونا شروع ہو جائے۔ (مسلم:۸۳۱) ٭:انھیں تین وقتوں میں مردوں کی تدفین بھی منع ہے۔ (مسلم:۸۳۱) ایک حدیث میں آتا ہے کہ: ’’صبح کی نماز (کی ادائیگی )کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی (دوسری) نماز (جائز ) نہیں اور نماز عصر (کی ادائیگی )کے بعد غروبِ آفتاب تک کوئی دوسری نماز جائز نہیں۔‘‘ (بخاری:۵۸۶، مسلم:۸۲۷) یاد رہے صبح کی نماز کے بعد دو رکعت کا پڑھناجائز ہے اگر آدمی پہلے نہ پڑھ سکا ہو۔ (ترمذی:۴۲۲،ابوداؤد:۱۲۶۷ اس کو ترمذی نے اور ابن خزیمہ(۶۱۱۱)نے صحیح کہا ہے) اسی طرح نماز عصر کی ادائیگی کے بعد جو نماز پڑھنا منع ہے وہ سورج کے بلند ہونے کی صورت میں جائز ہے۔ (ابوداؤد:۱۲۷۴ صححہ الالبانی) یعنی سورج کے بلند ہونے تک کوئی نماز مثلا دو نفل،نماز جنازہ،فوت شدہ یا بھولی