کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 97
-اپنے والد-عبادہ کی عیادت کے لیے گئے، ان پر موت کے آثار نمایاں تھے۔-ولیدنے-اپنے والد-عبادہ بن صامت-سے کہا: ’’ اے میرے ابا ! مجھے کچھ وصیت کیجیے۔ تو انہوں نے کہا: بیٹھو۔ بیشک تم ایمان کی چاشنی ہر گز نہیں پاسکتے اور نہ ہی ایمان کی حقیقت کو پہنچ سکتے ہو یہاں تک ہر اچھی اور بری تقدیر-کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے-پر ایمان لے آؤ۔ میں نے کہا: ’’ میں کیسے جان سکتا ہوں کہ اچھی اور بری تقدیر کیا ہے ؟ فرمایا کہ: ’’ جان لے کہ جو چیز تجھ سے ٹل گئی ہے، وہ ہر گزتجھے پہنچنے والی نہیں تھی اور جو کچھ تجھے پہنچ گیا وہ ہر گز ٹلنے والا نہیں تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرمارہے تھے: ’’ بیشک سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے کہا لکھ۔ سو قلم نے اس وقت سے لے کر جو کچھ قیامت تک ہونے والا تھا، لکھ دیا۔ اگر تمہاری موت اس کے علاوہ کسی اور عقیدہ پر آگئی تو جہنم میں جاؤ گے۔‘‘[1] محمد بن الحسین آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے بھی ہمیشہ سے اپنی صفات کے ساتھ دیکھتا رہا، سنتا رہا اور کلام کرتا رہا ہے اور جس نے اس کے علاوہ کوئی عقیدہ رکھا اس نے کفر کیا۔ مصنف کا قول:(اس میں شک کرنا کفرہے): مراد یہ ہے کہ قرآن کا اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفت ہوناہمیشہ سے اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ رہا ہے، اور اس کے خلاف عقیدہ کو انہوں نے ہمیشہ کفر ہی قرار دیا ہے۔ چنانچہ احمد بن ابی عوف فرماتے ہیں: میں نے ہارون القزوینی سے سنا، وہ فرماتے تھے: میں نے اہل مدینہ کے علماء اور محدثین میں سے کسی کو بھی نہیں سنا مگر وہ ان لوگوں پر رد کررہے تھے جو قرآن کو مخلوق کہتے ہیں، اورانہیں کافر کہتے تھے۔ ہارون قزوینی کہتے ہیں: میرا بھی یہی عقیدہ ہے۔ ‘‘[2] احمد بن یونس کہتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے سنا، انہوں نے کچھ قرآن پڑھا اور پھر فرمایا: ’’ جس نے یہ گمان کیا کہ یہ-قرآن-مخلوق ہے، اس نے اللہ تعالیٰ عظمت والے کے ساتھ کفر کیا۔‘‘[3] یعقوب الدورقی نے احمد بن حنبل-رحمہما اللہ-سے اس انسان کے متعلق پوچھا جو قرآن کو مخلوق کہتا ہے ؟ توانہوں نے فرمایا: ’’’جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کا علم مخلوق ہیں، سو اس نے کفر کیا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِن بَعْدِ مَا جَائَ کَ مِنَ الْعِلْمِ ﴾(آل عمران:61) ’’ پھر[بھی ] اگرکوئی آپ سے اس کے بارے میں جھگڑا کرے اور آپ کے پاس علم آچکا ہے۔‘‘ [1] رواہ عبدالرزاق في المصنف (180)وأحمد بن حنبل في مسندہ (5/ 317)، وابن ابی شیبہ فی مصنفہ (14/ 114)، و الترمذی في جامعہ (2155)، وصححہ الألباني في ’’ ظلال الجنۃ ۔ وابن أبي عاصم في السنۃ [111]۔ [2] مختصر الشریعہ 58، المصنف (162)۔ [3] مختصر الشریعہ 58، المصنف (163)۔