کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 82
مسائل توحید 13۔ مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ((واعلم-رحمک اللّٰه-:أن الکلام في الرب-[تعالی]-محدث،وہو بدعۃ ضلالۃ، ولا یُتکلم في الرب، إلا بما وصف بہ نفسہ-[عزو جل]-في القرآن، و ما بیّن رسولہ صلي اللّٰه عليه وسلم لأصحابہ، وھو جل ثناؤہ واحد:﴿لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْء ٌ وَہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ ﴾…)) ’’اور جان لیجیے: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ! بیشک رب تعالیٰ میں کلام کرنانئی ایجاد ہے اور یہ بدعت اور گمراہی ہے۔ رب تعالیٰ کے بارے میں کلام نہیں کیا جائے گا سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات قرآن میں بیان کی ہیں، یا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے بیان کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل ثناؤہ اکیلا ہے،(فرمایا): ﴿لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْء ٌ وَہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ ﴾(الشوری:11)’’ اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا سنتا ہے۔‘‘ شرح:…یہ سابقہ اجمال کی تفصیل ہے۔ جب مصنف رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ دین میں کٹ حجتی اور نا حق جھگڑا کرنا نئی ایجاد اور بدعت ہے تووہ سب سے خطرناک مسئلہ بھی بیان کیا جس کے بارے میں خصومات اورمناظرے ہوئے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات، اسماء و صفات کے بارے میں۔یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں قیل و قال کرنا نئی ایجاد ہے، جسے گمراہ فرقوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیاہے۔ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا ذرا بھر خوف نہیں ہے، کہ وہ ذات و صفات الٰہیہ کے بارے میں جھگڑا کرکے ایسی چیزوں کاانکار کرتے ہیں جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ کبھی تو کلام اللہ کی ایسی تفسیر کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے منقول نہیں ہے، بلکہ ان کی اپنی ایجاد ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ ہم ان آیات کا معنی نہیں سمجھ سکتے، لہٰذا اس کا معنی اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے خالص اورواضح عربی کلام کو عجمی کلام سے بھی پرے قرار دیتے ہیں جسے عرب نہیں سمجھ سکتے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ یہ لوگ مبتدعین اور خواہشات کے پجاری دین میں تفریق پیدا کرنے والے گمراہ فرقے ہیں۔ اس لیے کہ لوگوں میں عقلی اور فطری طور پر اللہ تعالیٰ کو ماننا اور اس پر یقین کرنا ہے۔ اس بارے میں قرآن و حدیث میں جو چیز مجمل بیان ہوئی ہے، اس پر مجمل ایمان رکھا جائے، اور جو چیز مفصل بیان ہوئی ہے، اس پر مفصل ایمان رکھا جائے۔اس سے زیادہ کی عقل میں استطاعت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کلام کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناحق جھگڑا بازی کرنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((المراء في القرآن کفر۔))[1] ’’قرآن میں ناحق جھگڑا کرنا کفر ہے۔‘‘ [1] صحیح، رواہ أحمد (2/ 258)وأبوداؤد (4603) و عبد الرزاق في المصنف (140)