کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 66
نہیں سکتے، بلکہ ان کے اقوال و افعال سے اس کی ترجمانی ہوتی ہے۔ جب کہ اس کے بر عکس جب کسی اہل سنت تک حدیث مبارکہ پہنچتی ہے، یا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کا علم ہوتا ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے، اوردل و جان سے اس کی قدر کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہونے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مصنف رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ:’’ حرام کاموں سے بچ کر رہیں۔‘‘خواہ یہ حرام کام شرکیہ ہوں،یا کفریہ، یا گناہ کے کام ہوں، کسی بھی لحاظ سے بھی ان میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالی! کسی بھی خیر اور بھلائی کی چیز کو حرام نہیں کرتے۔ ہاں جب کوئی ایسی چیز آئے جس میں خیر اور شر برابر ہوں، یا شر کا پہلو غالب ہو تو اس صورت میں اس سے بچنا واجب ہوجاتا ہے اور اگر خیر کا پہلو غالب ہو تو پھر اس کے اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ابو اسماعیل ہروی نے اپنی کتاب ’’ ذم الکلام و أہلہ ‘‘ میں اپنی سند سے حسان بن عطیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے: ’’ کوئی بھی قوم بدعت ایجاد نہیں کرتی،(اگر وہ بدعت ایجاد کرلیں تو) اللہ تعالیٰ ان سے اس جیسی سنت کو اٹھا لیتے ہیں، پھر اس سنت کو قیامت تک ان میں نہیں لوٹاتے۔‘‘[1] مصنف رحمہ اللہ کافرمان:(اور گمراہی اور گمراہی پر چلنے والے جہنم میں ہیں): اگر ہم آج کے دور کے او رپرانے دور کے مبتدعین کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ ان بدعات کے بڑے اسباب میں سے ایک سنت سے جہالت اور اس کا ترک کردینا ہے۔ خواہ اسے عمداً ترک کیا جائے، یہ بغیر عمد کے جہالت کی وجہ سے ایسے کیا جارہا ہو۔مثال کے طور پر خوارج۔ یہ سب سے پہلا فرقہ اور پہلے مبتدعین ہیں۔جنہوں نے نہ صرف بدعت ایجاد کی، بلکہ اس کی طرف دعوت بھی دینے لگے۔ جب ہم ان کی تاریخ پرغور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے بدعات میں واقع ہونے کا سب سے پہلا اور بڑا سبب سنت سے لا علمی اور جہالت تھا۔اس لیے کہ ان کے پاس علم نہیں تھااور نہ ہی مسائل دین کو سمجھنے کی قدرت رکھتے تھے۔ ان میں سے اکثر نے دین کا علم حاصل ہی نہیں کیا اور جن لوگوں نے کچھ تھوڑا بہت حاصل بھی کیا، انہوں نے منہجِ سلیم اختیار نہیں کیا۔ بلکہ اپنے جیسے ہی گمراہ لوگوں سے کچھ تھوڑا بہت سیکھ لیا تھا۔نہ ہی کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے حاصل کیا اور نہ ہی دین کے اصلی مصادر قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا۔اس وجہ سے وہ شعوری اور غیر شعوری طور پر جہالت کا شکار رہے۔ ایسے ہی جتنے بھی فرقے بعد میں آئے، جیسے شیعہ، قدریہ، جہمیہ سب کے سب جہالت کا شکار رہے ہیں۔ سنت سے اس لاعلمی اور جہالت کے باوجود یہ لوگ غرور و تکبر، اور جاہ پسندی کے ساتھ ساتھ نفس پرستی اور غلبہ پسندی کا شکار تھے۔ امام حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’شیطان کو نافرمانی اور گناہ کے کاموں میں سب سے زیادہ محبوب کام بدعت ہے، کیونکہ گناہ اور نافرمانی سے توبہ کرلی جاتی ہے، مگر [1] سنن الدارمی ح: 99۔