کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 536
وأخرج نور الإسلام من قلبہ۔‘‘وقال الفضیل ابن عیاض(رحمہ اللّٰه): ’’ من جلس مع صاحب بدعۃ في طریق، فجز في طریق غیرہ۔‘‘)) حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’جو اہل بدعت سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو ضائع کردیتے ہیں اور اس کے دل سے اسلام کا نور نکال دیتے ہیں۔‘‘[1] حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’جو کوئی راہ میں بدعتی کے ساتھ بیٹھا ہو۔ توکسی دوسری راہ سے وہاں سے گزر جائیے۔‘‘[2] شرح: … مراد یہ ہے کہ جوکوئی اہل بدعت سے محبت کرتاہے، وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اللہ کی طرف سے اس کا علم اوراعمال ضائع کردیے جائیں۔ اس جملہ میں بہت ہی سخت وعید ہے، پھر خاص کر جب بدعت ایسی ہو جس کی وجہ سے کفر لازم آتا ہو، تو اس کی سختی اور بڑھ جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بدعتی کا ہم نشین کبھی ان کی باتوں کو اچھا سمجھنے لگتا ہے، جس سے ان کی بدعات، کفریات اور شرکیات کو اچھا سمجھنا لازم آتا ہے۔ جب کہ ہر قسم کی بھلائی اور اچھائی اللہ کے دین میں ہے، اور جو چیز اس سے خارج ہے، یعنی بدعات و شرکیات ان میں ہر گز کوئی بھلائی نہیں۔ ان کا اچھا سمجھنا دین اسلام میں نقص و عیب سمجھنے کے مترادف ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس برائی سے محفوظ رکھے۔ اس پیرائے میں بدعتی کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے پر بہت سخت وعید ہے۔ کوئی انسان یہ نہ سمجھے کہ وہ بہت پڑھا لکھا، اس پر ان کے کلام کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔ وہ ہر سوال کا جواب دے سکتا، ایسی سوچ پر اللہ کے سامنے توبہ و استغفار کرنی چاہیے، اور اللہ تعالیٰ سے دین پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرنا چاہیے، اس لیے کہ انسان بشر ہے، اور کمزور ہے، اور اس کے پیچھے انتہائی مکار دشمن شیاطین جن و انس لگے ہوئے ہیں، جن کے شر سے محفوظ رہنا صرف اللہ کی مدد سے ہی ممکن ہے۔ مصنف رحمہ اللہ کا فرمان:(جو کوئی راہ میں بدعتی کے ساتھ بیٹھا ہو…): راستہ میں چونکہ بہت ہی کم دیر کے لیے(سستانے کے لیے) بیٹھا جاتا ہے۔ یہاں پراس جملہ سے مراد یہ ہے کہ انسان بہت ہی کم وقت کے لیے بھی بدعتی کی ہمراہی نہ اختیار کرے، اور نہ ہی اس کے ساتھ بیٹھے، نہ ہی اس کے ساتھ سفر کرے۔ نہ ہی انہیں اپنے سفر میں شریک کرے، اس لیے کہ ان کے خطرات بہت زیادہ ہیں، اور بہت مکارانہ اور شاطرانہ چالیں چل کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔اس میں ان لوگوں کے لیے پیغام عبرت ہے جو بدعتی کے ساتھ چلتے پھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ دعوت دین کی مصلحت کے پیش نظر کررہے ہیں۔ [1] أخرجہ اللالکائيفي السنۃ (263)، وابن بطہ في’’الإبانۃ الکبری‘‘ (440)،أخرجہ ابو نعیم في ’’الحلیۃ ‘‘(8/103)وابن جوزی في ’’ تلبیس إبلیس ‘‘(ص16)، و إسنادہ صحیح۔ [2] أخرجہ ابن بطہ في’’الإبانۃ الکبری‘‘ (493)،أخرجہ ابو نعیم في ’’الحلیۃ ‘‘(8/103)وابن جوزی في ’’ تلبیس إبلیس ‘‘(ص16)، و إسنادہ صحیح۔