کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 524
’’اور اس بات پر ایمان رکھا جائے کہ توبہ کرنا بندوں پر فرض ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے، ہر چھوٹے اور بڑے گناہ سے[توبہ کی جائے]۔‘‘ شرح: … اور اس بات پر ایمان رکھا جائے کہ گناہوں سے توبہ کرنا اللہ کی طرف سے بندوں پر فرض کی گئی ہے۔ کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس سے توبہ نہ ہو، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِیْنَ إِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً أَوْ ظَلَمُوْا أَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوْا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوبِہِمْ وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللّٰہُ وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلَی مَا فَعَلُوْا وَہُمْ یَعْلَمُونَo﴾(آل عمران: 135) ’’اور وہ لوگ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اَڑے نہیں رہتے۔‘‘ توبہ ہر شخص پر واجب ہے، خواہ گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا أَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo﴾(النور: 31) ’’ اور تم سب اللہ کی طرف توبہ و رجوع کرلو اے ایمان والو، تا کہ تم فلاح پا جاؤ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: ﴿ یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا﴾(التحریم: 8) ’’ اے ایمان والو ! اللہ کی طرف سچی توبہ(توبہ نصوح) کرلو۔‘‘ توبہ کامفہوم یہ ہے کہ بندہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کرلے اور وہ گناہ جنھیں وہ جانتا ہے اور وہ بھی جنہیں وہ نہیں جانتا بلکہ نادانستہ اس سے سرزد ہوگئے یا کرکے بھول چکا ہے ان سب گناہوں سے توبہ کرے۔بندے پر اللہ کی جو نعمتیں ہیں ان کے شکر کے سلسلہ میں جو تقصیر ہوئی ہے اس سے توبہ کرے اور ایک مسلمان اپنی زندگی کے مختلف اوقات میں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے، اس سے بھی توبہ کرے یہ سب امور توبہ میں شامل ہیں۔حضرت ماعز مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یٰأَیُّہَا النَّاسُ تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ فَاِنِّیْ أَتُوْبُ فِی الْیَوْمِ مِائَۃِ مَرَّۃٍ))[1] ’’ اے لوگو ! اللہ کی طرف تائب ہوجاؤ اور اس سے بخشش طلب کرو، میں روزانہ ایک سوبار توبہ کرتا ہوں۔‘‘ توبہ کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ اس کے بعد انسان استقامت پر رہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَاِنِّی لَغَفَّارُٗ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہْتَدٰی﴾(طٰہ: 82) ’’اور میں اسے بہت ہی بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور پھر ہدایت پر رہے۔‘‘ [1] مسلم برقم 2702۔