کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 519
اصحاب کے آل میں شامل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آل کا اطلاق دو طرح سے ہوتا ہے: ٭ جب آل بولا جائے تو اس سے مراد وہ لوگ ہوں جن پر صدقہ حرام ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہیں۔ ٭ آل بول کر آپ کے اتباع / ماننے والے مراد لیے جائیں۔ اسے لیے کہ اتباع کرنے والوں کوبھی آل کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ہے: {آل فرعون} یعنی فرعون کے پیچھے چلنے / اس کی بات ماننے والے۔ ایسے ہی آل محمد سے مراد ہوگی:’’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان کرچلنے والے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور پر منفرد صلاۃ(درود) پڑھنا، جیساکہ صحابی وغیرہ پر جائز ہے، جب تک کہ اسے خاص نعرہ یا علامت نہ بنالیا جائے۔ مثال کے طور پرآپ یہ کہہ سکتے ہیں: ’’ اللّٰهم صلِّ علی فلان ‘‘ اے اللہ ! فلاں پر رحمتیں نازل کراور یہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے، آپ نے دعا فرمائی تھی: ((اللّٰهم صلِّ علی آل أبي أوفی))[1] اے اللہ ! آل ابی اوفی پر رحمتیں نازل کر۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَ تُزَکِّیْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَیْہِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ وَ اللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌo﴾(التوبۃ: 103) ’’(اے پیغمبر)ان لوگوں کے مالوں میں سے زکوٰۃ لے،آپ زکوٰۃ سے ان کو(گناہوں سے)پا ک کریں گے، اوران کے لیے دعا کریں اس لیے کہ آپ کی دعا سے ان کو تسلی ہوجاتی ہے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ یہاں پر مصنف رحمہ اللہ ان لوگوں پر رد کررہے ہیں جو درود کے الفاظ کو بعض لوگوں کے لیے خاص شعار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اب یہ بدعت باقی فرقوں میں ختم ہوچکی ہے، البتہ شیعہ اورروافضہ اب بھی اس کو بطور شعار استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ کسی کے لیے درود شریف(دعا)پڑھا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔[2] حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اوراہل ِ سنت 166۔ مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ((وتعلم أن عثمان بن عفان رضی اللّٰه عنہ قتل مظلوماً، ومن قتلہ کان ظالماً۔)) ’’اور یہ بات اچھی طرح جان لیجیے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مظلوم شہید کیا گیا ہے، اور کو شہید کرنے والا ظالم تھا۔ ‘‘ [1] بخاری 1426، مسلم 1078۔ [2] اور ایسے انبیاء کرام علیہم السلام پر درود اکیلے پڑھا جاسکتا ہے ۔ اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے دیکھیں: ’’جلاء الأفہام ‘‘ لابن قیم رحمہ اللّٰه (ص345)، وتفسیر ابن کثیر (3/516 -517)، وفتح الباری (11/169)۔القول البدیع (ص81-87)، للسخاوي۔