کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 499
مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْماًo﴾(النساء: 65) ’’(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ! آپکے رب کی قسم ! یہ کبھی مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک یہ اپنے باہمی اختلاف میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ آپ فیصلہ کریں اس پر اپنے دل میں تنگی بھی محسوس نہ کریں بلکہ سر تسلیم وخم کر لیں۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مَّنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ وَمَن تَوَلَّی فَمَا أَرْسَلْنَاکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظاً﴾(النساء: 80) ’’ جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک اُس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے اُن کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘ مسلمانوں کی خیر خواہی اور ان کی اصل زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ، وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَقَلْبِہٖ وَاَنَّہٗ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَo وَاتُّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً، وَاعْلَمُوْٓااَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِo﴾(الانفال: 24۔ 25) ’’اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو جبکہ رسول تمہیں زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں اور یہ بات ذہن نشین کرلو کہ اللہ تعالیٰ آدمی اور اسکے دل کے مابین آڑ بن سکتا ہے، اور بلاشبہ تم سب کو اللہ کے پاس جمع ہونا ہے اور تم اس وبال سے بچو جو خاص انہی لوگوں پر واقع نہیں ہوگا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے اور یہ بات ذہن میں رکھ لو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی 32 سے زیادہ آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت فرض کی ہے۔ اس لیے کہ قرآن کے مجمل احکام جیسے نماز، زکواۃ، روزہ وغیرہ کی تفصیل اوربیان حدیث ِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ملتا ہے۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ مُتَّکِئاً عَلَی أَرِیْکَتِہٖ، یَأْتِیْہِ الأَمْرُ مِنْ أَمْرِيْ، مِمَّا أَمَرْتُ بِہٖ، أَوْ نَہَیْتُ عَنْہُ، فَیَقُوْلُ: ’’ لَا نَدْرِيْ، مَا وَجَدْنَا فِيْ کِتَابِ اللّٰہِ تعالیٰ اتَّبَعْنَاہٗ))[1] ’’ ہر گز ایسا نہ ہوکہ میں تم میں سے کسی ایک کو پاؤں کہ وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہو، اور اس کے پاس میرے احکام میں سے کوئی حکم پہنچے جس کا میں نے حکم دیا ہو، یا اس سے منع کیا ہو۔ تو وہ کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے، ہم تو کتاب اللہ میں جو پائیں گے اسی پر عمل کریں گے۔‘‘ حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح، رواہ احمد6/ 8، 10۔أبو داؤد 4605۔ ترمذی 2663۔ ابن ماجہ 13۔ مختصر الشریعہ 43۔