کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 492
ڈال دے گا، جس کہ اس کی بات ماننے کے لیے راہ ہموار کردے گا۔ اتباع سنت کی اہمیت 155 مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((فاللّٰه اللّٰه ! في نفسک، وعلیک بالأثر وأصحاب الأثر والتقلید، فإن الدین إنما ہو بالتقلید، [ یعني: للنبي صلي اللّٰه عليه وسلم وأصحابہ رضوان اللّٰه علیہم أجمعین ]، ومن قبلنا لم یدعونا من لبس، فقلدہم واسترح ولا تجاوز الأثر و أہل الأثر۔)) ’’اپنے دل میں اللہ کا خوف رکھو! اور آپ پر واجب ہے کہ حدیث اور محدثین کی راہ کی پیروی کرو۔ بیشک دین پیروی کرنے میں ہے [یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی پیروی]اور جو لوگ ہم سے پہلے [اہل سنت و الجماعت کے منہج پر ] تھے انہوں نے ہمیں شکوک و اشتباہ میں نہیں چھوڑا۔ ان کی پیروی کرو، اور آرام سے رہو اور حدیث اور محدثین سے آگے نہ بڑھو۔‘‘ شرح: … تقلید سے مراد اتباع ہے۔ اندھی اور بے بصیرت تقلیدنہیں۔جیساکہ متأخرین کے ہاں معروف ہے۔ بلکہ اس سے مراد اہل علم و اصلاح کی اتباع ہے۔ جن کی طرف مسائل شرعیہ جاننے کے لیے رجوع کیا جائے۔ اس لیے کہ ہر انسان اس بات کی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ شرعی نصوص سے مسائل کا استنباط کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ علماء راسخین کی طرف رجوع کیا جائے،تاکہ حق بات کا علم اور اس پر عمل آسان ہو جائے۔ مسائل کا استنباط مجتہدین کا کام ہے جو اس کے اہل ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام مسلمانوں کا اصل مرجع و مصدر کتاب وسنت ہیں۔ کتاب و سنت کو سمجھنا ان کے قواعد و ضوابط اور اصول معلوم کیے بغیر ممکن نہیں۔ان اصولوں اور قواعد کے صحیح معنوں میں جاننے والے علماء راسخین ہیں۔ اگر ہر انسان کے لیے بغیر قواعد وضوابط جاننے کے استنباط کے دروازے کھول دیے جائیں تو ایسے ہی افراتفری اور بد نظمی پھیل جائے جیسے کہ خوارج اور رافضہ میں ہے، جو بغیر کوئی اصول جانے جو جی میں آئے اپنی خواہشات کے تحت کہہ دیتے ہیں۔دین میں ایسی بدحالی کی مثال صرف گمراہ فرقوں کے ہاں ملتی ہے۔ منہجِ اہل سنت والجماعت نصوص ِ کتاب و ساتھ کے تعامل کے لیے اہل سنت و الجماعت کا ایک خاص منہج اور طریق کار ہے۔جو کہ افراط و تفریط اور بے جاعقلی دخل اندازی سے مبرا اور ایمان و تسلیم پر مبنی ہے۔ جسے یہاں بیان کیا جارہا ہے۔مترجم۔ 156 مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((وقف عند متشابہ القرآن و الحدیث، و لا تقِس شیئاً۔))