کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 479
کرتے اور سنت کا انکار کرتے ہیں۔یہی اصلی زندیق ہیں۔ اس لیے کہ سنت پر عمل کرنا اصل میں قرآن پر عمل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہٗ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا وَاتَّقُوا اللّٰہَ﴾(الحشر: 7) ’’جو کچھ تمہیں اللہ کے رسول دیدیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ،اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ دوسرے مقام پراللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَن تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ أَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌo﴾(النور: 63) ’’جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیے کہ(ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قرآن فرقہ کے بارے میں ان الفاظ میں بشارت دی ہے، فرمایا: ((رُبَّ رَجُلٌ شَبْعَانَ عَلَی أَرِیْکَتِہٖ یَقُولُ: بیننا و بینکم کتاب اللّٰه فَمَا کانَ فِیہِ مِنَ حَلَالٍ أَحْلَّلْنٰاہٗ وَمَا وَما کان فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ أحرمناہ، ألا و إني أوتیت القرآن و مثلہ معہ))[1] ’’آگاہ ہو جاؤ کوئی آسودہ حال انسان اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے یہ نہ کہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان یہ قرآن ہے، جو چیز ہم اس میں حلال پاتے ہیں، اس کو حلال قرار دیتے ہیں، اور اس میں جو چیز حرام پاتے ہیں اسے حرام جانتے ہیں، آگاہ ہوجاؤ مجھے کتاب اور اس کے ساتھ اس جیسی چیز دی گئی ہے۔‘‘ پس یہ شخص جو اپنے گمان کے مطابق قرآن سے استدلال کرتا ہے، اور سنت سے استدلال نہیں کرتا، حقیقت میں یہ پکا زندیق ہے۔اس کے پاس نہ بیٹھنا چاہیے، نہ اس سے لین دین رکھنا چاہیے اورنہ ہی ان سے میل جول رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین۔ بدعات کی مذمت 147 مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((واعلم أن الأہواء کلہا ردیۃ، تدعوا کلہا إلی السیف، وأردؤہا و أکفرہا الروافض والمعتزلۃ و الجہمیۃ، فإنہم یردون [ الناس] علی التعطیل والزندقۃ۔)) [1] صحیح، رواہ المصنف 97، أحمد 4/130 -131 ۔ أبو داؤد 4604۔ والترمذی 2664۔ مختصر الشریعہ ص 43۔