کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 473
سے محبت کرتا ہے، تو جان لیجیے کہ یہ اہل سنت ہے اور جب آپ کسی آدمی کو دیکھیں کہ حضرت احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ [1]، حضرت حجاج بن منہل رحمۃ اللہ علیہ [2]،حضرت احمد بن نصر رحمۃ اللہ علیہ [3]سے محبت کرتا ہے، اور ان کا ذکر خیر کرتا ہے تو جان لیجیے کہ یہ اہل سنت ہے۔ شرح: …یہاں سے مصنف رحمہ اللہ اہل ِ سنت و الجماعت کی چند دیگر نشانیاں بیان کررہے ہیں۔ اہل ِ سنت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ لوگ سنت کو جانتے ہیں، اور سنت ان کے عمل سے ٹپکتی نظر آتی ہے اور سنت آپس میں محبت کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((والذي نفسي بیدہ، لا تدخلوا الجنۃ حتی تؤمنوا، ولا تؤمنوا حتی تحابوا، أولا أدلکم علی شيء إذا فعلتموہ تحاببتم؟ أفشوا السلام بینکم۔))(تقدم تخریجہ) ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے، جب تک ایمان نہ لے آؤ،اور اس وقت تک ایمان نہیں لاسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگ جاؤ، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے کرنے سے تم آپس میں محبت کرنے لگ جاؤگے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔‘‘ نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ((لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ المسلم ما یحب لنفسہ))[4] ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی چیز نہ پسند کرے جسے وہ اپنے نفس کے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((من أحب للّٰه، وأبغض للّٰه، وأعطی للّٰه ومنع للّٰه، فقد استکمل الإیمان))[5] ’’جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے نفرت کی، اور اللہ کے لیے دیا، اور اللہ کے لیے ہی روک لیا، اس انسان نے ایمان مکمل کرلیا۔‘‘ اورائمہ اہل سنت والجماعت سے محبت کرنا سنت سے محبت کی دلیل ہے، اور سنت سے محبت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی دلیل ہے۔ اس محبت پر انعام یہ ملے گا کہ روزِ محشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی اور رفاقت نصیب ہوگی، [1] دیکھو:امام ذہبی کی ’’سیر اعلام النبلاء ‘‘ ۔ [2] ابو محمد الأنماطی البصری، جلیل القدر عالم، امام، عابد اور زاہد تھے۔ 217 ہجری میں انتقال ہوا ۔دیکھو:امام ذہبی کی ’’سیر اعلام النبلاء ‘‘ (10/352)۔ [3] ابن مالک الخزاعی، الإمام الکبیر، الشہید ۔ 230 ہجری میں انتقال ہوا، دیکھو:امام ذہبی کی ’’سیر اعلام النبلائ، (11 / 166) ۔ [4] رواہ البخاری، باب: من الإیمان أن یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ، برقم: 13۔ [5] أبو داؤد، باب الدلیل علی زیادۃ الإیمان و نقصانہ، برقم4683، /المعجم الکبیر، برقم 7613۔ صحیح ۔