کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 46
بٹ جائے گی، یہ بہتر فرقے جہنمی ہوں گے، صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا، اور وہی لوگ جماعت ہیں۔‘‘[1] حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو کوئی جنت کی خوشبو پانا چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ جماعت سے منسلک رہے۔ اس لیے کہ شیطان ایک کے ساتھ ہے، اور دو سے وہ دور رہتا ہے۔ ‘‘[2] جماعت سے کیا مرادہے؟ سنت کی بنیادوں میں سے ایک جماعت کے ساتھ منسلک رہنا ہے۔ اس لیے کہ سنت اپنے وسیع تر معانی اور مفاہیم میں اس وقت تک درست طور پر ثابت نہیں ہوسکتی اور نہ ہی جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس طرح سے اس کی تطبیق ممکن ہے، جب تک کہ جماعت کو لازم نہ پکڑا جائے۔ جماعت سے مراد اپنے عام معانی میں: اہل حق کی جماعت ہے، جن کا منہج کتاب و سنت ہو۔ کہ قول و عمل، اور اعتقاد میں ان سے منسلک رہا جائے اور ان کے نقش ِ قدم پر چلاجائے۔ امت کی عمومی مصلحت کے لیے جماعت سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی امام-حکمران-پر جمع ہوجائیں، یا کسی حق بات پر جمع ہو جائیں، ہدایت یافتہ جماعت وہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی راہ پر قائم ہو۔ جماعت کامعنی جماعت کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے، ان میں سے: 1۔ جماعت سے مراد اپنے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی جماعت ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی راہ پر چلنا کامیابی کی ضمانت ہے، جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں تفرقہ والی حدیث کے آخر میں حق جماعت کی نشاندھی کرتے ہوئے فرمایا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون ہوں گے ؟ فرمایا: ’’وہ اس راہ پر چلنے والے ہوں گے، جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ‘‘[3] اس سے مراد یہ ہے کہ جس اساس پر جماعت کی بنیاد رکھی جاتی ہے وہ سنت اور اتباع کا التزام کیا جائے۔ یعنی جماعت فقط دعوی کا نام نہیں ہے، اس کے لیے سنت کا اور ہدایت یافتہ ائمہ کا اتباع ضروری ہے۔ یہی لوگ مسلمانوں کی جماعت کے پہلے مثالی اور قابل پیروی لوگ ہیں اور ان کے ساتھ لازم رہنا، یعنی ان کے عقیدہ، قول اور عمل کو اپنے لیے کافی سمجھنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ [1] یہ حدیث مجموعی طرق ِ روایت کے اعتبار سے صحیح ہے، اسے امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں نقل کیا ہے، ح: 29، احمد 4/ 102، أبو داؤد 4597۔ الدارمی 256۔ مختصر الشریعۃ للآجری ص 26۔ [2] رواہ الترمذي [2165] صححہ الألبانی سلسلہ صحیحہ [1116]۔ [3] یہ حدیث حسن ہے، اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے، کتاب الإیمان باب ماجاء في افتراق ھذہ الأمۃ (5/26) تفصیل کیلیے دیکھیں: پیرایہ نمبر 95۔