کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 459
ایسا انسان ہی حقیقت میں بدعتی اور منافق ہے جس میں ہر قسم کی برائی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ان ظالموں کی باتوں اور خرافات کے برعکس ہیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’إذا ذکر أصحابي فأمسکوا۔‘‘ ’’جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے تو اپنی زبانوں کو روک لو۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق رائے زنی کرنے کی ممانعت اور خاموشی اختیار کرنے کے واجب ہونے سے متعلق یہ حدیث ایک روشن منارہ ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں آگاہ کردیاتھا،جو کچھ ان سے ہونے والا ہے، مگر پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق خیر کے کلمات خود بھی کہے، اور لوگوں کو بھی خیر کے کلمات کہنے کی ہی تعلیم دی۔ چونکہ عصمت(گناہوں سے پاک ہونا) صرف انبیاء کرام علیہم السلام کی خاصیت ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین معصوم تو نہیں ہیں۔ ہاں اگر وہ کسی ایک بات پر جمع ہوجائیں تو ان کا یہ اجماع معصوم مانا جائے گا،اورقطعی حجت تصور ہوگااور جب ان کا آپس میں اختلاف ہو تو دیکھا جائے گا کہ قرآن و سنت سے دلیل کس کے پاس ہے ؟ اسی کی بات مانی جائے گی۔اس لیے کہ ان میں سے بعض سے کچھ غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ مگر ان کی غلطیوں کو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی معاف کردیا ہے، ہمیں ان کا ذکر نہیں کرنا چاہیے، اور نہ ہی انہیں کرید کر شیطان کو موقع دینا چاہیے کہ وہ ہمارے دلوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے خلاف نفرت، بغض اور حسد کا بیج بوسکے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے متعلق اہل ِ سنت و الجماعت کا سیدھا اور سچا منہج ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ان کاایمان و عقیدہ وہ بنیادی امتیازی قاعدہ اوروصف ہے جس کی وجہ سے وہ باقی تمام گمراہ اور باطل پرست فرقوں سے جداگانہ اور امتیازی حیثیت رکھتے ہیں(اور حق پر قائم ہیں)۔حتی کہ بعض وہ بہکے ہوئے فرقے جو اپنے آپ کو اہل ِ سنت و الجماعت کہلاتے ہیں، مگروہ بھی ان معاملات میں بے جا دخل اندازی اور صحابہ کرام کے آپس میں تنازعات کواچھال کر صراط مستقیم سے ہٹ گئے، اور کئی وجوہات کی بنا پر غلطیوں کا شکار ہوگئے۔ان میں سے بعض امور کو سلف ِ صالحین نے ذکر کیا ہے: 1۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تنازعات میں سے بہت سارے حقائق ہم تک نہیں پہنچ پائے اور جو باتیں ہم تک پہنچی ان میں بہت ساری غلط اور خود ساختہ باتیں بھی شامل کردی گئی ہیں۔ 2۔ جو واقعات پیش آئے، ان کے بارے میں یہ کہنا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی نیت ہی ایسا کرنے کی تھی وہ یہی چاہتے تھے۔اس طرح ان پر وہ تہمت لگائی جاتی ہے جس کا ان کے ذہن میں تصور بھی نہیں آیا ہوگا۔ 3۔ یہ معاملات جتنے بھی بڑھے تھے، آخر میں ان کاخاتمہ اس لحاظ سے خیر پر ہوا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ان تنازعات کوختم کرنے کی بھر پور کوشش کرتے رہے، اور آخر کار صلح کے مرحلہ میں داخل ہوگئے۔ اگرچہ بعض اہل باطل اور ہوا