کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 455
تم کراؤ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَاَنکِحُوْا الْاَیَامَی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَائِکُمْ اِنْ یَکُوْنُوْا فُقَرَائَ یُغْنِہِمْ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌo﴾(النور: 32) ’’اورتم اپنے میں سے بے خاوندعورتوں کانکاح کر دو اورتمھاری لونڈیوں اور غلاموں میں سے جو نکاح کے لائق ہوں ان کا(بھی نکاح کردو)اگر یہ محتاج ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو مال دار کردے گا اوراللہ تعالیٰ گنجائش والا(سب) جانتاہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إذا جاء کم ممن ترضون دینہ وخلقہ فزوجوہ، إلا تفعلوا تکن فتنۃ في الأرض وفساد عریض))[1] ’’ جب تمہارے پاس(رشتہ کی طلب میں)کوئی ایساآدمی آئے جس کے دین اور اخلاق پرتم راضی ہو، تو اس کی شادی کردو، اگر تم ایسا نہ کروگے تو زمین میں ایک بہت بڑافتنہ اور شر وفساد بپا ہو جائے گا۔‘‘ آیت اور حدیث میں دونوں جگہ ولی سے خطاب ہے کہ وہ اپنی زیر ولایت کی شادی کرائے۔ اس پیرائے میں مصنف یہی مضمون بیان کررہے ہیں۔ 133 مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((وأیما امرأۃ وہبت نفسہا لرجل، فإنہا لا تحل لہ، یعاقبان إن نال منہا شیئاً، إلا بولي وشاہدي [عدل ] وصداق۔)) ’’اورجو بھی عورت کسی مرد کو اپنا نفس ہبہ کردے، وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوجاتی۔ اگر وہ اس کے ساتھ کچھ کر گزرا ہے تو ان دونوں کو سزا دی جائے گی۔ سوائے اس کے کہ ولی کی رضا مندی ا ور دو عادل گواہوں کی موجودگی، اور مہر مقرر ہو۔‘‘ شرح: … ایسا معاملہ ان معاشروں میں پایا جاتا ہے جہاں پر رافضی فرقوں کا زور ہے، اور ان لوگوں میں جہالت منتشر ہے۔ اور لوگ دینی علوم کے حصول میں انتہائی سستی کا شکار ہیں۔ کہ لڑکی اور لڑکا آپس میں بغیر گواہوں کے عقد کر لیتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا جائز ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں، حالانکہ شرعی شروط کے پورے ہوئے بغیر نکاح حرام ہے۔ مصنف کا فرمان:(عورت کسی مرد کو اپنا نفس ہبہ کردے …): اس سے ان لوگوں پر رد ہے جواسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [1] الترمذی 1107۔ سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب: الأکفاء، ح: 1963۔ وصححہ الألباني في صحیح المشکاۃ (3090)۔