کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 450
شرح: … یعنی جس امام کے پیچھے کھڑا ہو، اس کی اقتداء کی نیت کرنا بھی لازمی ہے۔کیونکہ اعمال کا دارو مدار تو نیت پر ہے۔ اگر امام کے پیچھے صف میں کھڑا تو ہوگیا مگر اس کی اقتداء کی نیت نہیں کی، توایسی نماز درست نہیں ہے۔ حدیث میں ہے: ((إنما جعل الإمام لیؤتم بہ …))[1] ’’بیشک امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے …۔‘‘ یہ اصل میں ان گمراہ لوگوں پر رد ہے جو مسلمانوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے، بلکہ ان پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں، اور اگر کہیں مجبوری سے پھنس بھی جائیں توان کے پیچھے صف میں تو کھڑے ہوجاتے ہیں مگر باجماعت نماز کی نیت نہیں کرتے، بلکہ اپنی انفرادی نماز پڑھتے ہیں، اور ریاکاری کرتے ہوئے صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ امر بالمعروف کون کرے؟ 130 مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((والأمر بالمعروف والنہی عن المنکر بالید واللسان والقلب بلا سیف۔)) ’’اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہاتھ سے ہے، اور زبان سے ہے اور دل سے ہے۔ بغیر تلوار کے۔‘‘ شرح: … یہی بات حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ثابت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: ((من رأی منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ، فإن لم یستطع فبلسانہ، فإن لم یستطع فبقلبہ، وذالک أضعف الإیمان))[2] ’’ تم میں سے جو کوئی برائی کی بات دیکھے اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دے، اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے، اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہوتو اپنے دل سے، یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔‘‘ ’’بغیر تلوار کے ‘‘: اس سے مراد یہ ہے تلوار کے ذریعہ تأدیب کرنا اور سزا دیناحاکم کا حق ہے، ہر ایک کواس کی اجازت نہیں ہے کہ جس بھی خطا کار کو دیکھے اس پر تلوار سونت کر کھڑا ہوجائے۔ اگر اسے کسی قدر اختیار حاصل ہے تو لاٹھی یا ہاتھ سے سزا دے سکتا ہے، ورنہ صرف زبان سے ہی منع کیا جائے۔ عام آدمی کے لیے امر بالمعروف میں تلوار استعمال کرنا خوارج اور غالب بدعتی فرقوں کا طریق کار ہے۔اوران ہی پر مصنف رحمہ اللہ اس پیرائے میں رد کررہے ہیں۔ [1] أبو داؤد، باب: الإمام یصلی من قعود، ح: 603۔بخاری، باب: إنما جعل الإمام لیؤتم بہ، ح: 688۔ [2] أخرجہ مسلم(49) في کتاب الإیمان باب کون النہی عن المنکر من الإیمان۔