کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 433
شرح: … یہ بھی ایک اہم فقہی مسئلہ ہے کہ اگر کسی کے پاس چوری یا غصب شدہ کا مال ہو تو اسے جائز نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے کوئی دوسرا ہتھیانے کی کوشش کرے۔ جوبات لوگوں کی زبانوں پر مشہور ہے کہ چور کی چوری کرنا حلا ل ہے، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ دوسرے کے ہاتھ سے مال کو مشروع طریقہ سے ہٹ کر لے۔بھلے دوسرے کے ہاتھ میں حرام کا مال ہو، شاید یہ انسان کسی بھی وقت توبہ کرے، اور حق داروں کو ان کاحق لوٹا دینا چاہتا ہور اور آپ اس کا مال چھین کر ہضم کرچکے ہوں، اس طرح سارا گناہ آپ کے سر جائے۔ویسے بھی کسی کے پاس خواہ مال حلال کا ہو یا حرام کا مسلمان کو کوئی حق حاصل نہیں کہ اس سے بغیر کسی وجہ کے یہ مال چھین لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کل مسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ))[1] ’’ ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر اس کاخون،اس کامال اور اس کی عزت حرام ہیں۔‘‘ دوسری روایت میں ہے: ((أمرت أن أقاتل الناس حتی یشہدوا أن لا إللّٰه إلا اللّٰه، فإذا قالوھا عصموا منی أموالہم ودمائھم إلا بحق الإسلام))[2] ’’مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کو اس وقت تک قتل کروں جب تک وہ اللہ کے اکیلا معبود برحق ہونے کا اقرار نہ کرلیں۔ جب وہ کلمہ توحید کا اقرار کرلیں تو وہ مجھ سے اپنے مال اور جانیں محفوظ کرلیں گے مگر اسلام کے حق کے ساتھ۔‘‘ پس جو مال لوگوں سے زبردستی چھینا جاتا ہے، یا ان کی رضامندی کے بغیر لے لیا جاتا ہے، یا چوری یا خیانت سے حاصل کرلیا جاتا ہے، وہ حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًاo﴾(النساء: 29) ’’مسلمانوں آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور سے مت کھائو مگر سوداگری کر کے آپس کی خوشی سے اور نہ خون کرو اپنا بے شک اللہ تم پر مہربان ہے(تمھاری ہلاکت وہ نہیں چاہتا)۔‘‘ جوکوئی کسی مالک کسی بھی ناجائز طریقہ سے حاصل کرلے، اس پر اس کا تاوان ہوگا، یہاں تک کہ وہ مال اس کے مالک کو ادا کردے۔ اگر وہ اس دنیا میں حق دار کو اس کا حق نہیں ادا کرے گا تو آخرت میں اس سے حق دلوایاجائے گا، اوروہ بہت ہی سخت مرحلہ ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے حقوق کے بارے میں فرمایا: ((من کانت لہ مظلمۃ من أخیہ من عرضہ فلیتحللہ منہ الیوم قبل أن لایکون دینار [1] مسلم کتاب البر والصلۃ 15۔ [2] مسلم۔