کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 429
پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنی توحید و عبادت بجالانے کا حکم دیاہے، اور اپنی توحید اور بندوں کے لیے عبادت کی ضرورت اور ان کے محتاج ہونے پر دلائل دیے ہیں، فرمایا: ﴿یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآئَ بِنَائً وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo﴾(البقرۃ: 20۔21) ’’اے لوگو اپنے مالک کی بندگی کرو جس نے بنایا تم کو اور تم سے پہلے(اگلے) لوگوں کو تم پرہیز گار ہو جائو گے۔امید رکھو جس نے زمین کو تمھارا بچھونا بنایااور آسمان کو چھت اور آسمان سے پانی برسا کر میوے نکالے تمھارے کھانے کو تو جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کے برابر کسی کو مت بناؤ۔‘‘ یہ خطاب تمام انسانیت سے ہے جس میں مؤمن اور کافر جنات اور انسان سب شامل ہیں، کہ سب صرف ایک اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کریں، اور اس کی بندگی کریں، اور اس کے سواکسی کی بندگی نہ کریں، اس لیے کہ اس کے بغیر کوئی بھی معبود برحق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کے لیے اتمام حجت کردی، اور ان پرگمراہی اور ہدایت کی راہیں واضح کردیں، اور ان کے پاس رسول بھیجے جو انہیں اللہ کی توحید پر لائیں، اور اس کی بندگی کا نعرہ بلند کریں۔ پھر جس کو چاہا ہدایت سے نواز دیا، اور جسے چاہا گمراہ کردیا۔ جسے ہدایت سے نوازا یہ اس کا فضل تھا، اور جنہیں گمراہ کیا، وہ اس کا عدل تھا۔ مصنف رحمہ اللہ کا فرمان:(… اسلام کی طرف ہدایت دیکر فضل فرما دیا): اسلام و ایمان کی نعمت اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے اور عظیم الشان انعامات میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ أَنْ ہَدَاکُمْ لِلْإِیْمَانِ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ﴾(الحجرات: 17) ’’بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا رستہ دکھایا بشرطیکہ تم سچے(مسلمان) ہو۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کل میسر لما خلق لہ))[1] ’’ہر انسان کے لیے وہی کچھ آسان کردیا گیا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ مشاجرات صحابہ کا حکم 121۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((والکف عن حرب علی رضی اللّٰه عنہ و معاویۃ رضی اللّٰه عنہ، وعائشۃ رضی اللّٰه عنہا وطلحۃ رضی اللّٰه عنہ [1] بخاری، باب: تفسیر سورۃ اللیل، ح: 7112 ۔