کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 412
’’اے دلوں کو پھیرنے والے ! میر ے دل کو اپنے دن اور اطاعت پر ثابت رکھ۔‘‘ ایسے فعل ِکفر کی وجہ سے انسان پر کفر کا فتوی لگانے میں جلدی نہیں کی جائے گی۔ جب تک اس کی جہالت کو ختم نہ کردیا جائے۔ اس کے بعد بھی اگر اپنے فعل پر مصر رہے تو اس کے کفر کا فتوی لگایا جائے گا۔ کفریہ امور /اسلام کو توڑنے والے امور میں سے سارے قرآن یا قرآن کی کسی ایک آیت اک انکار کرتا ہے۔ یا کسی معلوم اور ثابت شدہ حدیث کا انکار کرتا ہے، یا کسی حدیث یاآیت کے بارے میں شک کرتا ہے، اس سے وہ کافر ہوجاتا ہے۔ اپنے دین و ایمان کو سلامت رکھنے اور نجات پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان پورے کے پورے دین پر بغیر کسی شک و شبہ اور تردد کے ایمان لائے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’ مجھے اس وقت تک لوگوں سے جنگ جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ لا إلہ إلا اللہ کی شہادت نہ دیں، اور’’ مجھ پر اور جو دین میں لے کر آیا ہوں، اس پر ایمان نہ لے آئیں‘‘ جب وہ اس کو اختیار کر لیں گے، تو ان کو(مسلمانوں کی طرح) احکام شریعت کے مطابق جان و مال کی امان حاصل ہوگی، بجز اسلامی حقوق کے، باقی ان کے دلوں کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے(کہ وہ دل سے ایمان لائے ہیں، یا کسی خوف اور طمع سے)۔‘‘[1] مسلم ہی کی دوسری روایت میں ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے ! اس امت کا جو بھی شخص خواہ یہودی ہو یا عیسائی، میری بعثت کی خبر سن کرمیری نبوت اور اس دین پر،جو میں لے کر آیا ہوں، ایمان لائے بغیر مر جائے گا، وہ جہنمی ہوگا‘‘[2] ان احادیث سے استدلال کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح باقی لوگوں کے لیے ضروری ہے، کہ وہ کامیابی کے لیے رسالت محمد پر ایمان لائیں، ایسے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ پورے دین پر ایمان رکھیں۔ نصیحت مصنف 113۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((وجمیع ما وصفت لک في ہذا الکتاب فہو عن اللّٰه [تعالی]، و عن رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم وأصحابہ وعن التابعین، و[عن ] القرن الثالث إلی القرن الرابع۔)) [1] مسلم، باب: أمرت أن أقاتل الناس حتی یقولوا لا إلہ إلا اللّٰه، ح: 135۔ [2] مسلم، باب: وجوب ایمان برسالۃ نبینا محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم ح: 403۔