کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 394
حق کو ہی بقاء اور دوام ہے 103۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((واعلم أنہ لا یزال الناس في عصابۃ من أہل الحق والسنۃ، یہدیہم[اللّٰه] إلی الحق، ویہدي بہم غیرہم، ویحي بہم السنن، فہم الذین وصفہم اللّٰه تعالیٰ مع قلتہم عند الاختلاف [ فقال]: ﴿ وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ إِلَّا الَّذِیْنَ أُوتُوہُ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَ تْہُمُ الْبَیِّنَاتُ بَغْیْاً بَیْنَہُمْ﴾۔فاستثناہم، فقال:﴿فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِہٖ وَاللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَاء ُ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴾۔ وقال رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم: ’’لا تزال عصابۃ من أمتي ظاہرین علی الحق ولا یضرہم من خذلہم، حتّی یأتي أمر اللّٰه [وہم ظاہرون]۔‘‘)) جان لیجیے کہ لوگوں میں ہمیشہ ایک گروہ حق پر رہے گا، جن کو اللہ تعالیٰ حق پر قائم رکھے گا اور ان کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت دے گا، اور ان کے ساتھ سنتوں کو زندہ کرے گا؟ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قلت کے باوجود اختلاف کے وقت ان اوصاف سے موصوف کیا ہے[فرمایا]: ﴿ وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ إِلَّا الَّذِیْنَ أُوتُوہُ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَ تْہُمُ الْبَیِّنَاتُ بَغْیْاً بَیْنَہُمْ﴾(البقرہ: 213) ’’اور اُس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجودیکہ اُن کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے(اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے(کیا) ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں مستثنیٰ قرار دیا ہے، فرمایا: ﴿فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِہٖ وَاللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَاء ُ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴾(البقرہ: 213) ’’و ہ جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے اللہ نے اپنی مہربانی سے جس کے لیے چاہا اس کو اُس کی راہ دکھا دی، اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی، اور جو انہیں رسوا کرنا چاہے گا، وہ انہیں کو ئی نقصان نہیں دے سکے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے اور وہ حق پر قائم ہوں۔‘‘[1] شرح: … مسلمان کو یہ علم اور یقین ہونا چاہیے کہ حق ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گااور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ توفیق دے گا وہ حق پر قائم رہیں گے، خواہ فتنہ اور شر جس قدر بھی بڑھ جائے، او ردشمن حق کو مٹانے کی جس قدر بھی کوشش کرلیں۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وہ اس دین کی حفاظت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: [1] رواہ مسلم(1924) کتاب الإمارۃ،- باب قولہ:لا تزال طائفۃ من أمتي…۔‘‘