کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 39
﴿وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَام٭رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ﴾ (ابراہیم:35۔36) ’’ اور مجھ کو اور میرے بیٹوں کو بتوں کی پوجا سے بچا کررکھ۔اے میر ے مالک ! ان بتوں نے بے شک بہت آدمیوں کو گمراہ کردیا ہے۔‘‘ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ وَطَاعَتِکَ۔)) [1] ’’اے دلوں کو پھیرنے والے ! میر ے دل کو اپنے دین اور اطاعت پر ثابت رکھ۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان اعمال و اقوال اور اعتقادسے محفوظ رکھے جن سے وہ ناراض ہوتا ہو، اور ان اعمال کی توفیق دے جنہیں وہ پسند کرتا ہے، اور جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ اسلام اور سنت مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ((إِعْلَمُوْا اَنَّ الْاِسْلَامَ ہُوَ السُّنَّۃُ، وَالسُّنَّۃُ ہُوَ الْاِسْلَامُ، وَلَا یَقُوْمُ أحَدُہُمَا إِلَّا بِالْآخِرَ۔)) ’’جان لیجیے کہ اسلام ہی سنت ہے، اور سنت ہی اسلام ہے۔ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔‘‘ شرح:…(مصنف رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان):((اعلم)): ’’ جان لیجیے۔ یہ لفظ کسی بھی پیرائے کے شروع میں لایا جاتا ہے۔ اس سے مقصود بعد میں آنے والے حکم کی طرف متوجہ کرنا دھیان دلانا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی یہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: {اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo}(المائدۃ: 98) ’’جانے رہو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان(بھی) ہے۔‘‘ (مصنف رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان): [ اسلام ہی سنت ہے…] یہاں سے اسلام کے معانی و مفہو م کا بیان شروع کیا جارہا ہے۔ اسلام اپنے عام معانی میں اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی سے سر تسلیم خم کرنے کا نام ہے اور اسلام کا اطلاق توحید پر بھی ہوتاہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { إِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ }(آل عمران: 19) [1] صحیح، أخرجہ الترمذی 1240، وابن ماجہ 3834، والحاکم فی المستدرک 1927۔ وقال الألبانی: صحیح ۔ صحیح الجامع 7987۔