کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 378
﴿ لِیَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَہُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقَیٰمَۃِ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَہُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ اَلَا سَآئَ مَا یَزِرُوْنَo﴾(النحل: 25) ’’آخر وہ اپنے(گناہوں کے) پورے بوجھ قیامت کے دن اٹھائیں گے(کیونکہ ان کا کوئی گناہ معاف تو ہوگا نہیں)اورجن لوگوں کوبے گمراہ کرتے ہیں ان کے(گناہوں کے بھی)کچھ بوجھ اٹھائیں گے سن لو کیا بُرا بوجھ اٹھارہے ہیں۔‘‘ کوئی بھی سچا مسلمان اس میں کوئی دورائے نہیں رکھ سکتا کہ بیشک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی صحیح اسلام اور حق منہج پر تھے۔ لہٰذاکامیابی پانے کے لیے ان کی ہی پیروی کرنی چاہیے۔ ان کے علاوہ کسی اور کی پیروی کو کیسے ذریعہ نجات سمجھ جاسکتا ہے جن کی کوئی ضمانت نہ ہو۔ جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سچے مؤمن، مخلص مسلمان اور کامیاب لوگ ہونے کی ضمانت اللہ تعالیٰ اس طرح دی ہے کہ قیامت تک سچے مسلمان اس ضمانت کو پڑھ کر اجر و ثواب کماتے رہے ہیں گے اور ان کی راہ پر چلنے کو باعث سعادت سمجھیں گے۔ قرآن کریم اللہ کی صفت اور کلام 99۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((واعلم أنَّ من قال:’’ لفظي بالقرآن مخلوق، فہو مبتدع، فمن سکت و فلم یقل مخلوق ولا غیر مخلوق فہو جہمي، ہکذا قال أحمد بن حنبل رحمہ اللّٰه۔ وقال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم: ’’إنہ من یّعش منکم بعديفسیری اختلافاً کثیراً، فإیّاکم ومحدثات الأمور، فإنہا ضلالۃ۔‘‘ و علیکم بسنتي و سنۃالخلفاء الراشدین المہدیین وعضوا علیہا بالنواجذ۔‘‘)) جان لیجیے کہ: جس نے کہا کہ: قرآن پڑھنے میں میرے آواز-الفاظ-مخلوق ہے، وہ بدعتی ہے اور جو خاموش رہا، اس نے نہ مخلوق کہا اور نہ ہی غیر مخلوق، وہ جہمی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ایسے ہی فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیشک تم میں سے جو کوئی میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا،پس اپنے آپ کو نئے ایجاد کردہ کاموں سے بچا کر رکھو، بیشک یہ امور گمراہی ہیں، اور تم پر میری سنت کا التزام واجب ہے، اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت۔ اسے اپنے کنچلی کے دانتوں سے مضبوط پکڑلو۔‘‘[1] شرح: … اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے کلام کی صفت کو قرآن میں بیان کیا ہے اور اس معانی میں بہت ساری آیات [1] حدیث حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کا ایک ٹکڑا ہے اور صحیح حدیث ہے ۔دیکھو: امام احمد فی مسندہ (4/126- 127) و أبو داؤد کتاب السنۃ باب لزوم السنۃ، والترمذی کتاب العلم، - باب ما جاء في الأخذ بالسنۃ، واجتناب البدع۔ وابن ماجۃ في المقدمۃ، باب: اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین)۔ مزید جاننے کے لیے دیکھو: ’’المذکر والتذکیر و الذکر ‘‘ لابن أبی عاصم (ص 98)۔