کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 369
سوائے اس کے کہ وہ چار گواہ لائے جو اس بات کی گواہی دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دینے کے بعد پھر حلال کیا تھا۔‘‘ ابن ماجہ میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ’’ جس کے پاس متعہ کی عورتوں میں سے کچھ ہو تو اسے چاہیے کہ انہیں چھوڑ دے، اور جو کچھ ان کو دیا ہے، اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لے۔‘‘[1] مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: فقہ کی کتابیں۔ حلالہ کرنا اس معنی میں ہے کہ مطلقہ سے شادی ہی اس شرط پر کی جائے کہ وہ ایک یا دو رات کے بعد اسے چھوڑ دے گا، تاکہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے۔ ایسا کرنا حرام ہے۔ البتہ اگر کوئی انسان اپنی مرضی سے بغیر کسی شرط کے شادی کرے، اور پھر اس عورت کو صحبت کے بعد طلاق دے دے، یا بیوہ ہوجائے، یا طلاق واقع ہوجائے تواب یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی۔ اس عقد ِ نکاح میں کوئی حرج میں نہیں ہے۔ قریش وبنی ہاشم کے حقوق اور ان کی فضیلت قریش اگرچہ مجموعی طور پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ تاہم ان میں بھی آگے چل کر گروہ اور قبیلے ہیں اور ہر قبیلہ شرف ومنزلت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے جدا مقام رکھتا ہے۔ جناب نبیء کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق بھی قریش کے سب سے معزز گھرانے بنو مناف سے ہے، اور بنو مناف کی معززترین شاخ بنی ہاشم سے ہیں اور پھر بنی ہاشم کے بھی معزز گھرانے بنو مطلب سے آپ کا تعلق ہے۔ ویسے تو اکثر قریشی خاندانوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داریاں اور تعلقات ہیں، مگر بنو ہاشم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین رشتہ دار ہیں، او ران کے خاص حقوق ہیں جن کے ادا کرنے کی تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دی ہے۔ ذیل کے پیرائے میں مصنف رحمہ اللہ ان ہی لوگوں کے حقوق بیان کررہے ہیں۔ 97۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((واعرف لبنی ہاشم فضلہم لقرابتہم من رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم وتعرف فضل قریش والعرب، وجمیع الأفخاذ، فاعرف قدرہم [وحقوقہم] في الإسلام، ومولی القوم منہم۔ وتعرف لسائر الناس حقہم في الإسلام۔ و [اعرف فضل] الأنصار، ووصیۃ رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم فیہم، وآل الرسول صلي اللّٰه عليه وسلم فلا تنساہم۔[ واعرف]فضلہم [وکراماتہم]، وجیرانہ من أہل المدینۃ فاعرف فضلہم۔)) [1] موطاامام مالک، باب: المتعۃ، سنن بن ماجہ، باب: النہی عن نکاح المتعۃ، ح: 1962۔