کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 356
انسانی زندگی اس کے بغیر صحیح طور پر نہیں چل سکتی۔ کیونکہ انسان کو اپنی ضروریات کے لیے لین دین کرنا پڑتا ہے اور یہ ان امور میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے، پھر کسی کی کیا جرأت ہے کہ انہیں حرام قرار دے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کتاب و سنت چھوڑ کر جب اپنی رائے سے کسی چیز میں دخل اندازی کی جاتی ہے، یا جھوٹا زہد و تقوی اختیار کیا جاتا ہے تو انسان راہ راست پر نہیں رہ سکتا، بلکہ گمراہی اس کا مقدر ہو جاتی ہے۔ خوف اور اُمید 92۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((واعلم-رحمک اللّٰه-: أنہ ینبغي للعبد، أن تصحبہ الشفقۃ أبداً ما صحب الدنیا، لأنہ لا یدري علی ما یموت، وبم یختم لہ، وعلی ما یلقی اللّٰه [عزوجل ]، وإن عمل کل عمل الخیر۔)) ’’اور اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، جان لیجیے ! انسان کو چاہیے کہ جب تک وہ اس دنیا میں رہے، اس وقت تک خوف اور اندیشہ رکھے رہے۔ اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کی موت کس حال میں ہواور کس عمل پر اس کا خاتمہ ہواور کون سا عمل کرتے ہوئے اللہ سے جا ملے گا، اگرچہ وہ سارے نیکی اور بھلائی کے عمل کرتا رہے۔ ’’ شرح: …اعمال کا نجام ان کے خاتمہ کے لحاظ سے ہوگا، جیساکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فوالذي لا إلہ غیرہ، إن أحدکم لیعمل بعمل أہل الجنۃ حتی ما یکون بینہ و بینہا إلا ذراع، ثم یسبق علیہ الکتاب، فیختم لہ بعمل أہل النار، فیدخلہا، وإن أحدکم لیعمل بعمل أہل النار، حتی ما یکون بینہ و بینہاإلا ذراع، ثم یسبق علیہ الکتاب، فیختم لہ بعمل أہل الجنۃ، فیدخلہا))[1] ’’اس ذات کی قسم جس کے بغیر کوئی معبود برحق نہیں ! بیشک تم میں سے کوئی ایک اہل جنت کے کام کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر لکھی ہوئی کتاب-تقدیر-سبقت لے جاتی ہے، اور اس کا خاتمہ اہل ِ جہنم کے کاموں پر ہوتا ہے، اور اس کا داخلہ جہنم میں ہوجاتا ہے۔اور بیشک تم میں سے کوئی ایک اہل جہنم کے کام کرتا ہے، یہاں تک کہ اسکے اور جہنم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پرتقدیر سبقت لے جاتی ہے، اور اسکاخاتمہ اہل ِ جنت کے کاموں [1] رواہ البخاری [6594] مسلم [2643]۔ الشریعۃ ص 179ح:197 ۔و الترمذي، باب: أنما الأعمال بالخواتیم، ح: 2137۔ امام ترمذی اور علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے ۔