کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 346
نماز کا بیان 86۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((واعلم أن [صلاۃ] الفریضۃ خمس [ صلواتٍ]، ولا یزاد فیہن ولا ینقص في مواقیتہا۔ وفي السفر [رکعتان]، إلا المغرب۔فمن قال أکثر من خمس، فقد ابتدع، ومن قال أقلَّ من خمس، فقد ابتدع۔ لایقبل اللّٰه شیئاً منہا إلا لوقتہا۔ إلا أن یکون نسیاناً، فإنہ معذور، یأتي بہا إذا ذکرہا، أو یکون مسافراً فیجمع بین الصلاتین إن شائ۔)) ’’اور جان لیجیے کہ: فرض نمازیں پانچ ہیں۔ ان میں کو ئی زیادتی نہیں کی جائے گی اور نہ ہی ان کے اوقات میں کمی کی جائے گی اور سفر میں دو رکعت ہیں سوائے مغرب کے۔ جس نے کہا نمازیں پانچ سے زیادہ ہیں، اس نے بدعت کی۔اور جس نے کہا: ’’ فرض نمازیں پانچ سے کم ہیں، اس نے بھی بدعت کی۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے کوئی نماز بھی اس کے وقت کے بغیر قبول نہیں کرتے، سوائے بھول جانے کے، کیونکہ بھولنے والا معذور ہے، جب بھی اسے یاد آئے گا وہ اس نماز کو ادا کرے گا۔یا پھر مسافر ہو تو اسے دو نمازیں جمع کرنے کا اختیار حاصل ہے، اگروہ چاہے۔ ‘‘ شرح: …اسلام میں نماز کی بہت بڑی شان اور اہمیت ہے۔ نماز اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے لاإلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ کے اقرار کے بعد دوسرا رکن ہے۔جو کوئی نماز کے واجب ہونے کا منکر ہو وہ باجماع مسلمین کافر ہے اور جو کوئی اس کو فرض تو مانتا ہو، مگر سستی کی وجہ سے نماز نہ پڑھتا ہو،اس کے متعلق علماء کے اقوال میں سے صحیح ترین قول یہی ہے کہ وہ کافر ہوجاتا ہے جا بر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ ((بین الرجل وبین الشرک والکفرترک الصلاۃ))(مسلم) ’’ بیشک بندہ مومن اور کفر اور شرک کے درمیان فرق نماز کا ہے۔‘‘ دن اور رات میں اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((خمس صلوات کتبھن اللّٰه علی العباد، فمن جاء بھن لم یضیّع منہن شیئاً استخفافاً بحقھن، کان لہ عند اللّٰه عہدأن یدخلہ الجنۃ، ومن لم یأت بھن فلیس لہ عند اللّٰه عہد إن شاء عذّبہ وإن شاء أدخلہ الجنۃ)) [1] ’’ پانچ نمازیں اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں، جس نے ان کو اداکیا، اور ان کے حقوق میں سے کسی چیز [1] موطأ، أحمد، نسائی/ صحیح الجامع ۔