کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 321
صحیح یہ ہے کہ جب بھی اجل پوری ہو جائے گی تو روح نے جسد سے جدا ہونا ہی ہے۔خواہ ایسا قتل سے ہو، یا حادثہ سے ہو، یا طبعی موت مرنے سے۔ جس طرح بھی اللہ تعالیٰ نے اس کا خاتمہ لکھاہوگا، ویسا ہو کر رہے گا۔[1] افسوس کی بات یہ ہے کہ جہلا تو درکنار، اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی نجومیوں اور کاہنوں کے پاس جاکر اپنے ستارے دکھاتے ہیں، اور حساب کرواتے ہیں۔ اب تو یہ کام صنعت کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ روزانہ اخباروں کے صفحات اسی بکواس سے بھرے ہوتے ہیں۔ کاہن، نجومی، اور فال والے کی تصدیق کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، لہٰذا ان کے پاس جانے سے پرہیز کریں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((من أتی عرافاً أو کاھناً فصدقہ بما یقول، فقد کفر بما أنزل علی محمد))[2] ’’جو نجومی، کاہن اور فال گر کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، تحقیق اس نے قرآن کا کفر کیا۔‘‘ موسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی 77۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((والإیمان بأن اللّٰه تبارک وتعالی ہوالذي کلم موسیٰ بن عمران علیہ السلام یوم الطور، وموسیٰ یسمع من کلام اللّٰه بصوت اللّٰه وقع في مسامعہ منہ لا من غیرہ، فمن قال غیر ہذا، فقد کفر [ باللّٰه العظیم]۔)) ’’اور اس بات پر ایمان کہ ’’طُور‘‘ کے دن اللہ تعالیٰ نے ہی موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے کلام کیا تھا اور موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ کلام آواز کے ساتھ سنا تھااور آپ کی سماعت میں یہ آواز اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ڈالی گئی تھی کسی اور کی طرف سے نہیں۔ جو اس کے علاہ کوئی اور عقیدہ رکھے تو اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا۔‘‘ شرح: … اس پیرائے میں مصنف رحمہ اللہ کئی ایک گمراہ فرقوں پر رد کررہے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک جہمیہ بھی ہیں۔ جو یہ کہتے ہیں: کہ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کا کلام سنا ہے۔اس لیے انہوں نے آیت کو بدل دیا اور کہنے لگے: ﴿وَ کَلَّمَ اللّٰہَ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا﴾(النساء: 164)(لفظ اللہ کے ھ پر زبر کے ساتھ پڑھا)۔ ’’اور موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے باتیں بھی کیں۔‘‘ حالانکہ آیت اس طرح ہے: ﴿وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا﴾ ’’اور موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے باتیں بھی کیں۔‘‘(اصل لفظ اللہ کے ھ پر پیش کے ساتھ ہے) [1] مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: تفسیر القرطبی (2835)۔ [2] ابوداؤد، ترمذی، احمد / صحیح۔