کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 320
انسان یہ کہے کہ اگر اہل قبر کو انسان کی زیارت کا شعور و احساس ہوتا ہے تو پھر ہم اس سے اپنی ضروریات و حاجات میں مدد کیوں نہ طلب کریں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت محمدیہ میں اس کی اجازت نہیں ہے، اور نہ ہی ایسا کرنا کوئی مشروع طریقہ ہے۔ بعض علماء ان روایات کے متعلق کہتے ہیں: ظاہر یہ ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے۔[1] مصنف رحمہ اللہ کا فرمان:(اور مؤمن قبر میں نعمتیں پاتا ہے، اور فاجر کو عذاب …): ایمان کے اصولوں میں ایک اصل قبر کی نعمتوں اور عذاب پر ایمان ہے۔ جب کہ معتزلہ اس عقیدہ کے مخالف ہیں، وہ اس کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’’ میت اپنی قبر میں ایسے ہی رہتا ہے جیسے ہم نے رکھ دیا، نہ ہی اسے کوئی عذاب ہوتاہے، اور نہ ہی کوئی نعمت پاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی نظر، عقل اور فکر پر اعتماد کرتے ہیں، غیب پر ایمان نہیں رکھتے۔ جب کہ دنیا کو آخرت کے امور پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی آخرت کے امور کو دنیا پر قیاس کرنا ممکن ہے۔ قبر میں ملنے والا عذاب یا ثواب متواتر احادیث سے ثابت ہے، اور اس سلسلہ میں عذاب قبر کے مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ قبر میں میت کی دو ہی حالتیں ہیں، یا تو وہ نعمتوں سے سر فراز ہورہا ہے، یا پھر اسے عذاب کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ علامہ صالح الفوزان اپنی شرح میں فرماتے ہیں: جو کوئی قرآنی نصوص اور احادیث مبارکہ معلوم ہونے کے باوجود عذاب ِ قبر کا انکار کرتا ہے، وہ کافر ہے‘‘۔ او رجوکوئی تأویل یا تقلید کی وجہ سے انکار کررہا ہو، اس کے لیے حق بیان کیا جائے گا، اور اس کے شبہات دور کیے جائیں گے اور اگر پھر بھی وہ اپنے عقیدہ پر مصر رہے تو اس پر کفر کا فتوی لگایا جائے گا۔[2] برج اور ستاروں کی حقیقت 76۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((واعلم أن البروج بقضاء اللّٰه وقدرہ۔)) ’’اور یہ بھی جان لیجیے کہ: ستارے اللہ تعالیٰ کی قضاء اور قدر سے ہیں۔‘‘ شرح: … اس پیرائے سے مؤلف رحمہ اللہ کا مقصد اہل ِنجوم اور کہانت پررد کرنا ہے، جو ستاروں کی گردش کو انسان کے افعال، اس کی تقدیر اور موت و حیات میں مؤثر مانتے ہیں۔ جب کہ اجل اور عمر اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر سے ہے، اچھی اور بری تقدیر بھی اللہ ہی کی جانب سے ہے، اس میں کسی ستارے یا برج کی گردش کا کوئی اثر نہیں۔نیزاس بات کے کہنے سے ان لوگوں پر رد کرنا مقصود ہے جو عمر کے بارے میں قدریہ فرقہ کی رائے سے متأثر ہیں۔ [1] مزید دیکھیں: ’’ بشری الکئیب بلقاء الحبیب ‘‘(ص 87-89)۔’’ أھوال القبور ‘‘ ابن رجب الحنبلی (ص 184- 192)۔ [2] شرح شرح السنۃ 213۔